19/04/2026
*|| فیصلہ سازوں کی نالائقی||*
پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے دو بڑے موضوعات اکثر زیرِ بحث آتے ہیں:
(1) سرکاری خسارے والے اداروں (SOEs) کی نجکاری
(2) Independent Power Producers (IPPs) کے معاہدوں پر نظرثانی یا ان سے چھٹکارا
یہ دونوں مسائل اپنی نوعیت، اثرات اور پیچیدگی میں مختلف ہیں۔ ذیل میں ہم ان کا تفصیلی موازنہ، نمایاں نکات اور شماریاتی جائزہ پیش کرتے ہیں۔
*حصہ اول* : خسارے والے سرکاری اداروں کی نجکاری
پاکستان میں کئی سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں ہیں، جیسے Pakistan International Airlines، Pakistan Steel Mills، اور Pakistan Railways۔
نجکاری کے حق میں چند نکات یہ ہو سکتی ہے۔
مالی بوجھ میں کمی کیونکہ حکومت ہر سال اربوں روپے سبسڈی دیتی ہے۔
کارکردگی میں بہتری کیلئےنجی شعبہ عموماً زیادہ مؤثر اور منافع بخش ہوتا ہے۔
بدعنوانی میں کمی کی وجہ پرائیویٹ اداروں میں سیاسی مداخلت میں نہیں ہوتی۔
نجی سرمایہ کار جدید ٹیکنالوجی لاتے ہیں جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے۔
سرکاری خسارے کم ہونے سے بجٹ خسارہ کم ہوتا ہے۔
سروس کوالٹی بہتر ہوتی ہے
مقابلہ بڑھنے سے صارف کو فائدہ ہوتا ہے۔
نجی ادارے بہتر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
حکومت کی توجہ اہم شعبوں پر
جیسے تعلیم اور صحت مارکیٹ اکانومی کو فروغ اور مسابقتی ماحول پیدا ہوتا ہے۔
غیر ضروری اداروں سے جان چھوٹتی ہے، حکومت اپنے بنیادی کردار تک محدود رہتی ہے۔
*نجکاری کے خلاف 10 نکات*
بیروزگاری کا خطرہ، نجی ادارے اخراجات کم کرنے کیلئے ملازمین نکالتے ہیں۔
قومی اثاثوں کی انتہائی کم قیمت پر فروخت کا خدشہ۔
اسی طرح اجارہ داری کا امکان بڑھ جاتا ہے چند بڑے سرمایہ کار مارکیٹ پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
قیمتوں میں اضافہ سے عوام پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔
نجکاری کے عمل میں بدعنوانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اہم شعبے نجی ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جس سے حکومت کا کنٹرول کم ہو جاتا ہے۔
نجی ادارے صرف منافع دیکھتے ہیں عوامی مفاد نظر انداز ہو جاتا ہے۔
ملازمین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
*شماریاتی جائزہ (نجکاری)*
پاکستان میں تقریباً 200+ سرکاری ادارے
سالانہ نقصان: 500 سے 800 ارب روپے
Pakistan International Airlines کا خسارہ: تقریباً 75–100 ارب روپے سالانہ
Pakistan Steel Mills: 2015 کے بعد اربوں کا نقصان
مجموعی طور پر SOEs کا قرضہ: 5000 ارب روپے سے زائد
*حصہ دوم:* آئی پی پیز (IPPs) کا مسئلہ
IPPs وہ نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں ہیں جن کے ساتھ حکومت نے بجلی خریدنے کے طویل مدتی معاہدے کیے ہیں۔
*آئی پی پیز کے خلاف نکات*
کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ
بجلی نہ لینے کے باوجود ادائیگی
بجلی انتہائی مہنگی ہو جاتی ہے۔
فی یونٹ قیمت میں اضافہ
گردشی قرضہ میں غیر معمولی اضافہ، پاور سیکٹر کا بحران،
ڈالر میں ادائیگیاں، روپے کی قدر گرنے سے بوجھ بڑھتا ہے، غیر متوازن معاہدے، سرمایہ کاروں کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، قومی خودمختاری متاثر ہوتی ہے، بین الاقوامی دباؤ بڑھتا ہے، عوام پر بجلی کا بوجھ مہنگے بلوں کی صورت بڑھ جاتا ہے۔
توانائی کا غیر مؤثر استعمال
زائد صلاحیت ہونے کے باوجود ادائیگی، کرپشن کے الزامات
معاہدوں میں شفافیت کی کمی
معیشت پر دباؤ یعنی صنعت مہنگی بجلی سے متاثر ہو رہی ہے۔
آئی پی پیز کے فوائد
بجلی بحران کا حل (1990s)
لوڈشیڈنگ کم ہوئی
نجی سرمایہ کاری آئی
توانائی سیکٹر میں سرمایہ
فوری پیداواری صلاحیت
حکومتی تاخیر سے بچاؤ
ٹیکنالوجی کی منتقلی
جدید پاور پلانٹس
توانائی کا استحکام
سپلائی بہتر ہوئی
اقتصادی ترقی میں مدد
صنعت کو بجلی ملی
حکومتی بوجھ کم ہوا (ابتدائی طور پر)
انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری
بین الاقوامی اعتماد
سرمایہ کاروں میں اضافہ ہوا *لیکن* یہ فوائد اب بے معنی ہو چکے ہیں کیونکہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سب سولر انرجی سے پاکستان میں 16 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے (6 ہزار آن گرڈ اور 10 ہزار آف گرڈ) یعنی اب پاکستان میں متبادل اور سستے ذرائع سے بجلی کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
*شماریاتی جائزہ (IPPs* )
کل بجلی پیداوار کا 50–60% IPPs سے
کیپسٹی پیمنٹس: سالانہ
2000–2500 ارب روپے
گردشی قرضہ: 2500–3000 ارب روپے
بجلی کی اوسط قیمت: 30–60 روپے فی یونٹ
ڈالر انڈیکسڈ ادائیگیوں کی وجہ سے اخراجات میں مسلسل اضافہ
*نتیجہ*
حقیقت یہ ہے کہ دونوں مسائل اہم ہیں مگر نوعیت مختلف ہے:
نجکاری ایک داخلی اصلاح ہے جو حکومتی ناکامی کو ٹھیک کر سکتی ہے اور
آئی پی پیز ایک معاہداتی بحران ہے جسے مکمل ختم کرنا فی الوقت ممکن نہیں بلکہ ری اسٹرکچر کرنا ضروری ہے
خسارے والے اداروں کی شفاف اور مرحلہ وار نجکاری ہو۔ اور آئی پی پیز کے معاہدوں کی دوبارہ مذاکرات (renegotiation)
اور توانائی سیکٹر میں مقامی اور سستی پیداوار کی جائے،
حکومتی گورننس میں اصلاحات لائی جائیں (جیسا کہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی کارکردگی بہت بہتر کی گئی)
حتمی بات یہ ہےاگر صرف ایک انتخاب کرنا پڑے تو:
مختصر مدت میں: IPPs کی اصلاح زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معیشت کو گھن لگا ہوا ہے اور پاکستانی عوام کا خون چوس رہے ہیں۔
طویل مدت میں بہت زیادہ نقصان والے اداروں میں نجکاری مؤثر حل ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کےپاور سیکٹر میں *کے۔ الیکٹرک* کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے۔
اصل کامیابی اسی میں ہے کہ دونوں پر بیک وقت متوازن اصلاحات کی جائیں، ورنہ معیشت پر دباؤ برقرار رہے گا۔
*خیر اندیش*
محمد نوید عامر