All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot

All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot Only Recognized Representative of WAPDA Employees in Pakistan.

he main aims of the Hydro Union are to promote rights at work, encourage decent employment opportunities, enhance social protection and strengthen dialogue on work-related issues.

19/04/2026

*|| فیصلہ سازوں کی نالائقی||*
پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے دو بڑے موضوعات اکثر زیرِ بحث آتے ہیں:
(1) سرکاری خسارے والے اداروں (SOEs) کی نجکاری
(2) Independent Power Producers (IPPs) کے معاہدوں پر نظرثانی یا ان سے چھٹکارا
یہ دونوں مسائل اپنی نوعیت، اثرات اور پیچیدگی میں مختلف ہیں۔ ذیل میں ہم ان کا تفصیلی موازنہ، نمایاں نکات اور شماریاتی جائزہ پیش کرتے ہیں۔
*حصہ اول* : خسارے والے سرکاری اداروں کی نجکاری
پاکستان میں کئی سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں ہیں، جیسے Pakistan International Airlines، Pakistan Steel Mills، اور Pakistan Railways۔
نجکاری کے حق میں چند نکات یہ ہو سکتی ہے۔
مالی بوجھ میں کمی کیونکہ حکومت ہر سال اربوں روپے سبسڈی دیتی ہے۔
کارکردگی میں بہتری کیلئےنجی شعبہ عموماً زیادہ مؤثر اور منافع بخش ہوتا ہے۔
بدعنوانی میں کمی کی وجہ پرائیویٹ اداروں میں سیاسی مداخلت میں نہیں ہوتی۔
نجی سرمایہ کار جدید ٹیکنالوجی لاتے ہیں جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے۔
سرکاری خسارے کم ہونے سے بجٹ خسارہ کم ہوتا ہے۔
سروس کوالٹی بہتر ہوتی ہے
مقابلہ بڑھنے سے صارف کو فائدہ ہوتا ہے۔
نجی ادارے بہتر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
حکومت کی توجہ اہم شعبوں پر
جیسے تعلیم اور صحت مارکیٹ اکانومی کو فروغ اور مسابقتی ماحول پیدا ہوتا ہے۔
غیر ضروری اداروں سے جان چھوٹتی ہے، حکومت اپنے بنیادی کردار تک محدود رہتی ہے۔
*نجکاری کے خلاف 10 نکات*
بیروزگاری کا خطرہ، نجی ادارے اخراجات کم کرنے کیلئے ملازمین نکالتے ہیں۔
قومی اثاثوں کی انتہائی کم قیمت پر فروخت کا خدشہ۔
اسی طرح اجارہ داری کا امکان بڑھ جاتا ہے چند بڑے سرمایہ کار مارکیٹ پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
قیمتوں میں اضافہ سے عوام پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔
نجکاری کے عمل میں بدعنوانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اہم شعبے نجی ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جس سے حکومت کا کنٹرول کم ہو جاتا ہے۔

نجی ادارے صرف منافع دیکھتے ہیں عوامی مفاد نظر انداز ہو جاتا ہے۔
ملازمین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
*شماریاتی جائزہ (نجکاری)*
پاکستان میں تقریباً 200+ سرکاری ادارے
سالانہ نقصان: 500 سے 800 ارب روپے
Pakistan International Airlines کا خسارہ: تقریباً 75–100 ارب روپے سالانہ
Pakistan Steel Mills: 2015 کے بعد اربوں کا نقصان
مجموعی طور پر SOEs کا قرضہ: 5000 ارب روپے سے زائد
*حصہ دوم:* آئی پی پیز (IPPs) کا مسئلہ
IPPs وہ نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں ہیں جن کے ساتھ حکومت نے بجلی خریدنے کے طویل مدتی معاہدے کیے ہیں۔
*آئی پی پیز کے خلاف نکات*
کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ
بجلی نہ لینے کے باوجود ادائیگی
بجلی انتہائی مہنگی ہو جاتی ہے۔
فی یونٹ قیمت میں اضافہ
گردشی قرضہ میں غیر معمولی اضافہ، پاور سیکٹر کا بحران،
ڈالر میں ادائیگیاں، روپے کی قدر گرنے سے بوجھ بڑھتا ہے، غیر متوازن معاہدے، سرمایہ کاروں کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، قومی خودمختاری متاثر ہوتی ہے، بین الاقوامی دباؤ بڑھتا ہے، عوام پر بجلی کا بوجھ مہنگے بلوں کی صورت بڑھ جاتا ہے۔
توانائی کا غیر مؤثر استعمال
زائد صلاحیت ہونے کے باوجود ادائیگی، کرپشن کے الزامات
معاہدوں میں شفافیت کی کمی
معیشت پر دباؤ یعنی صنعت مہنگی بجلی سے متاثر ہو رہی ہے۔

آئی پی پیز کے فوائد
بجلی بحران کا حل (1990s)
لوڈشیڈنگ کم ہوئی
نجی سرمایہ کاری آئی
توانائی سیکٹر میں سرمایہ
فوری پیداواری صلاحیت
حکومتی تاخیر سے بچاؤ
ٹیکنالوجی کی منتقلی
جدید پاور پلانٹس
توانائی کا استحکام
سپلائی بہتر ہوئی
اقتصادی ترقی میں مدد
صنعت کو بجلی ملی
حکومتی بوجھ کم ہوا (ابتدائی طور پر)
انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری
بین الاقوامی اعتماد
سرمایہ کاروں میں اضافہ ہوا *لیکن* یہ فوائد اب بے معنی ہو چکے ہیں کیونکہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سب سولر انرجی سے پاکستان میں 16 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے (6 ہزار آن گرڈ اور 10 ہزار آف گرڈ) یعنی اب پاکستان میں متبادل اور سستے ذرائع سے بجلی کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

*شماریاتی جائزہ (IPPs* )
کل بجلی پیداوار کا 50–60% IPPs سے
کیپسٹی پیمنٹس: سالانہ
2000–2500 ارب روپے
گردشی قرضہ: 2500–3000 ارب روپے
بجلی کی اوسط قیمت: 30–60 روپے فی یونٹ
ڈالر انڈیکسڈ ادائیگیوں کی وجہ سے اخراجات میں مسلسل اضافہ

*نتیجہ*
حقیقت یہ ہے کہ دونوں مسائل اہم ہیں مگر نوعیت مختلف ہے:
نجکاری ایک داخلی اصلاح ہے جو حکومتی ناکامی کو ٹھیک کر سکتی ہے اور
آئی پی پیز ایک معاہداتی بحران ہے جسے مکمل ختم کرنا فی الوقت ممکن نہیں بلکہ ری اسٹرکچر کرنا ضروری ہے
خسارے والے اداروں کی شفاف اور مرحلہ وار نجکاری ہو۔ اور آئی پی پیز کے معاہدوں کی دوبارہ مذاکرات (renegotiation)
اور توانائی سیکٹر میں مقامی اور سستی پیداوار کی جائے،
حکومتی گورننس میں اصلاحات لائی جائیں (جیسا کہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی کارکردگی بہت بہتر کی گئی)
حتمی بات یہ ہےاگر صرف ایک انتخاب کرنا پڑے تو:
مختصر مدت میں: IPPs کی اصلاح زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معیشت کو گھن لگا ہوا ہے اور پاکستانی عوام کا خون چوس رہے ہیں۔
طویل مدت میں بہت زیادہ نقصان والے اداروں میں نجکاری مؤثر حل ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کےپاور سیکٹر میں *کے۔ الیکٹرک* کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے۔
اصل کامیابی اسی میں ہے کہ دونوں پر بیک وقت متوازن اصلاحات کی جائیں، ورنہ معیشت پر دباؤ برقرار رہے گا۔

*خیر اندیش*
محمد نوید عامر

17/04/2026

*فری یونٹس کا خاتمہ—اصلاح یا استحصال؟*
تحریر: عبدالرزاق، زونل انفارمیشن سیکرٹری سیالکوٹ

یہ کیسا انصاف ہے کہ جو ہاتھ نظام کو سہارا دیتے ہیں، آج انہی ہاتھوں کو کاٹنے کی بات کی جا رہی ہے؟ ڈسکوز کے وہی ملازمین جو تپتی دھوپ میں جھلس کر، برستی بارشوں میں بھیگ کر، اور اندھیری راتوں میں جان ہتھیلی پر رکھ کر بجلی کی ترسیل کو بحال رکھتے ہیں—آج انہیں ہی “بوجھ” قرار دے دیا گیا ہے۔ فری یونٹس کا خاتمہ محض ایک مالی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے طبقے کے اعتماد پر کاری ضرب ہے جو ہمیشہ نظام کا سہارا بنا رہا۔
حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ چند ہزار ملازمین سے یہ سہولت واپس لے کر اربوں کا خسارہ کم ہو جائے گا، تو یہ یا تو خوش فہمی ہے یا پھر اصل مسائل سے دانستہ چشم پوشی۔ سوال یہ ہے کہ کیا بجلی کے شعبے کی بربادی کا ذمہ دار وہ لائن مین ہے جو بجلی کے کھمبے پر لٹک کر اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے؟ یا وہ طاقتور حلقے، بڑے نادہندگان، اور وہ اشرافیہ جن کے مفادات کو کبھی چیلنج نہیں کیا جاتا؟
*یہ فیصلہ اخلاقی طور پر کمزور، معاشی طور پر غیر مؤثر، اور قانونی طور پر مشکوک ہے* آئینِ پاکستان مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ Industrial Relations Act 2012 یہ تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی سروس کنڈیشن میں تبدیلی سے پہلے یونین سے مشاورت کی جائے۔ برسوں سے دی جانے والی سہولت کو اچانک ختم کرنا “Legitimate Expectation” کی کھلی خلاف ورزی ہے—اور اس سے بڑھ کر یہ اعتماد کے رشتے کو توڑنے کے مترادف ہے۔
مگر اصل مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا—اصل کہانی تو وہ ہے جسے چھپایا جا رہا ہے۔

*اشرافیہ کی مراعات—خاموش سچ*
ایک طرف مزدور سے چند یونٹس چھیننے کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف ملک کی اشرافیہ آج بھی مراعات کے سمندر میں تیر رہی ہے:
وہی بیوروکریسی جو سرکاری گاڑیوں، مفت ایندھن، پروٹوکول، اور سرکاری رہائش سے لطف اندوز ہوتی ہے
وہی اعلیٰ افسران جن کے بجلی کے بلز عوام کے ٹیکس سے ادا ہوتے ہیں
وہی ادارے جہاں فری میڈیکل، فری ٹرانسپورٹ، اور بے شمار الاؤنسز “حق” سمجھے جاتے ہیں
وہی پارلیمانی اشرافیہ جن کے اخراجات پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا
*سوال یہ ہے کہ اگر واقعی کفایت شعاری مقصود ہے تو کیا اس کا آغاز ہمیشہ کمزور طبقے سے ہی کیوں ہوتا ہے؟*
کیا کبھی کسی نے اشرافیہ کی مراعات پر کٹ لگانے کی سنجیدہ کوشش کی؟
کیا کبھی کسی وزیر، کسی سیکریٹری، یا کسی اعلیٰ عہدیدار سے کہا گیا کہ “قومی مفاد” میں اپنی سہولتیں کم کریں؟
حقیقت یہ ہے کہ یہاں قربانی کا معیار طبقاتی ہے—
کمزور کے لیے قانون سخت، طاقتور کے لیے نرم۔

*احتجاج کیوں؟*
کیونکہ:
ملازمین کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے
بڑے نادہندگان بدستور محفوظ ہیں
اشرافیہ کی عیاشیاں برقرار ہیں
اور اعتماد کا رشتہ ٹوٹ رہا ہے
آج اگر فری یونٹس ختم ہوئے، تو کل پنشن اور دیگر مراعات بھی نشانے پر ہوں گی— جو کہ پہلے ہی نشانے پر ہیں اور پنجاب میں تو ختم شد اور اشرافیہ بدستور محفوظ رہے گی۔

*حل کیا ہے؟*
اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو:
سب سے پہلے اشرافیہ کی مراعات کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے
سرکاری اخراجات میں سب سے بڑی کٹ وہیں لگائی جائے جہاں سب سے زیادہ وسائل خرچ ہو رہے ہیں
بڑے نادہندگان کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں اور بلاامتیاز ریکوری کی جائے
بجلی چوری کے خاتمے کے لیے جدید نظام متعارف کروایا جائے
اور سب سے بڑھ کر—ملازمین کو شراکت دار بنایا جائے، مجرم نہیں

*آخری بات*
یہ لڑائی چند یونٹس کی نہیں، بلکہ دو نظاموں کی ہے—
ایک وہ جہاں کمزور سے چھینا جاتا ہے
اور دوسرا وہ جہاں طاقتور سے پوچھا جاتا ہے

*ستم ظریفی دیکھیے:*
پیتل کی بالیوں میں بیٹی بیاہ دی
اور باپ کام کرتا تھا کوئلے کی کان پر

اور پھر المیہ یہ ہے کہ
میرے مڑکے نال کھلوتا تاج محل
نئ من دا تے فیر بنوا کے ویکھ لوے

جب تک اس ملک میں مراعات کا بوجھ برابر تقسیم نہیں ہوگا، تب تک اصلاح کا ہر نعرہ محض ایک دھوکہ ہی رہے گا۔
اور یاد رکھیں—
جب انصاف یکطرفہ ہو جائے، تو ردعمل بھی یکطرفہ نہیں رہتا۔

06/03/2026

*مزدور، وردی اور انصاف کا سوال*
(تحریر عبدالرزاق زونل انفارمیشن سیکرٹری)
لگا کے آگ شہر کو شہنشاہ نے کہا
تماشہ دیکھنے کا دل میں اٹھا ہے شوق بہت
یہ بات سن کے شہنشاہ کی شاہ پرست بولے
حضور آپ کا شوق سلامت… شہر اور بہت

ہیلتھ، سیفٹی اور انوائرنمنٹ جیسے خوش نما عنوانات کے ساتھ جب نئے ضابطے اور ڈائریکٹوریٹ متعارف کروائے جاتے ہیں تو ان کے منشور ایسے خوبصورت الفاظ سے سجے ہوتے ہیں کہ بظاہر لگتا ہے جیسے محنت کشوں کی زندگی محفوظ، باوقار اور آسان بنانے کا عزم کیا جا رہا ہے۔ مگر جب ان پالیسیوں کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو اکثر یہ خوبصورت الفاظ فریب کی ایسی مالا ثابت ہوتے ہیں جو دکھنے میں جتنی دلکش ہوتی ہے، حقیقت میں اتنا ہی تکلیف دہ پھندہ ثابت ہو تے۔

کسی بھی ادارے کی اصل قوت اس کے محنت کش ہوتے ہیں۔ ہیلتھ، سیفٹی اور انوائرنمنٹ کے ذمہ داران کو چاہیے تھا کہ وہ مزدور کی فلاح کو محض دفتری اصطلاح نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سمجھتے۔ کیونکہ حفاظت کے اصول اگر انسان کو سہولت دینے کے بجائے اس کے لیے نئی مشکلات پیدا کرنے لگیں تو پھر ان اصولوں کی روح کہیں کھو جاتی ہے۔

حال ہی میں ایک حکم سامنے آیا ہے کہ پرمٹ ٹو ورک حاصل کرنے کے لیے لائن مین کا باوردی ہونا لازمی ہوگا۔ بظاہر یہ نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار کی بات لگتی ہے، مگر جب اس حکم کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کئی سوال جنم لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بیشتر علاقوں میں ایک فیڈر کے لیے ایک یا دو لائن مین ہی دستیاب ہوتے ہیں، اور کئی مرتبہ دو یا تین فیڈرز کا بوجھ ایک ہی شخص اٹھا رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں وہ ایک فرد کئی افراد کا کام انجام دیتا ہے۔ شدید گرمی، خطرناک ماحول اور مسلسل محنت کے بعد جب وہ بارہ یا چودہ گھنٹے کی ڈیوٹی مکمل کر کے گھر پہنچتا ہے تو اس کے پاس چند لمحوں کی راحت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

لیکن اگر اسی وقت ایمرجنسی کال آ جائے تو نئے حکم کے مطابق اسے وہی پسینے اور تھکن سے بھری وردی پہن کر دوبارہ ڈیوٹی پر پہنچنا ہوگا، تب ہی اسے کام کرنے کی اجازت ملے گی۔

*یہاں سوال وردی کا نہیں، بلکہ انصاف اور انسانی وقار کا ہے*۔

دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے لیے واضح اصول موجود ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قوانین کے مطابق کارکن کو محفوظ ماحول، مناسب اوقات کار اور آرام کا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 23 اور 24 کے مطابق ہر انسان کو مناسب کام کے حالات، معقول اوقاتِ کار اور آرام و تفریح کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اسی طرح عالمی مزدور تنظیم کے اصول بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطرناک نوعیت کے کاموں میں مناسب عملہ، شفٹ سسٹم اور محدود ڈیوٹی اوقات لازمی ہوں۔

اسلامی تعلیمات بھی مزدور کے حقوق کے بارے میں غیر معمولی حساسیت کا درس دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔”
(سورۃ الاعراف: 85)

یہ آیت صرف تجارت کے اصول نہیں بتاتی بلکہ معاشرتی انصاف کا ایک وسیع تصور پیش کرتی ہے کہ کسی بھی انسان کے حق میں کمی نہ کی جائے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔”
(سورۃ النساء: 58)

یہ اصول صرف عدالتوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس اختیار ہو—چاہے وہ حکمران ہو، منتظم ہو یا کسی ادارے کا ذمہ دار۔

رسول اکرم ﷺ نے مزدور کے احترام کو اور بھی واضح الفاظ میں بیان فرمایا:

“مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔”

یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محنت کش کی عزت اور اس کے حق کا فوری اعتراف ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔

اگر واقعی نظم و ضبط اور حفاظت کو یقینی بنانا مقصود ہے تو پھر چند بنیادی تقاضے بھی پورے ہونے چاہئیں۔

سب سے پہلے مناسب افرادی قوت فراہم کی جائے۔ اگر ایک شخص تین لوگوں کا کام کرے گا تو نہ صرف اس کی صحت متاثر ہوگی بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ اسی طرح ڈیوٹی کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو اور باقاعدہ شفٹ سسٹم نافذ کیا جائے۔ جو ملازم ڈیوٹی مکمل کر کے گھر پہنچ جائے اسے اگلی شفٹ تک آرام کا حق دیا جائے۔

*یہ کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں بلکہ وہ بنیادی اصول ہیں جو دنیا کے اکثر مہذب معاشروں میں تسلیم کیے جا چکے ہیں*۔

اصل مسئلہ قوانین کا ہونا نہیں بلکہ ان کی روح کو سمجھنا ہے۔ اگر قوانین انسان کی سہولت کے لیے بنائے جائیں تو وہ نظام کو مضبوط کرتے ہیں، لیکن اگر وہ انسان پر بوجھ بن جائیں تو پھر وہ انصاف کے بجائے طاقت کی علامت بن جاتے ہیں۔

تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ جب اختیار رکھنے والے لوگ زمینی حقیقت سے دور ہو جائیں تو نظام بظاہر قائم رہتا ہے مگر اس کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ کیونکہ کسی بھی ادارے کی اصل طاقت عمارتیں یا دفاتر نہیں بلکہ وہ محنت کش ہوتے ہیں جو اپنی جان اور توانائی لگا کر اس نظام کو چلائے رکھتے ہیں۔

اور جب مزدور کی آواز کمزور پڑ جائے تو انصاف بھی آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگتا ہے۔
*شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات*

18/02/2026

*ظلم کے سائے اور تحقیر آمیز ماحول میں کام کرتی زندگیاں — ایک سوالیہ نشان*
(عبدالرزاق — زونل انفارمیشن سیکرٹری)

“کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر”

اور نبی کریم ﷺ کا وہ ارشاد جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہوا:
“بہترین مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”

یہ محض ایک روحانی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی، اخلاقی اور انتظامی ضابطہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے کئی مقتدران کے لیے یہ تعلیم محض دیواروں کی زینت بن کر رہ گئی ہے۔

*اوقاتِ کار یا استحصال؟ — قومی و بین الاقوامی تناظر*
اگر ہم گیپکو جیسے بڑے عوامی اداروں کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک تلخ تصویر سامنے آتی ہے۔ ماتحت عملے سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے گویا وہ انسان نہیں بلکہ مشینیں ہوں—جنہیں نہ تھکن لاحق ہوتی ہے، نہ بیماری، نہ خاندانی ذمہ داریاں۔

پاکستان کے فیکٹریز ایکٹ 1934، شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 اور متعلقہ صوبائی لیبر قوانین واضح طور پر درج ذیل اصول متعین کرتے ہیں:

ہفتہ وار اوقات کار کی حد
اضافی اوقات (اوور ٹائم) کی مقررہ شرح سے ادائیگی
ہفتہ وار آرام اور رخصت کا حق

لیکن جب مسلسل غیر معینہ ڈیوٹی لی جائے، رات دن پیغامات کے ذریعے فوری احکامات صادر ہوں، اور انسانی مجبوریوں کو کمزوری سمجھا جائے—تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ قانونی خلاف ورزی ہے۔

عالمی معیار کیا کہتے ہیں؟
International Labour Organization (ILO) کے کنونشنز اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں:

Convention No. 1 (Hours of Work, 1919) — یومیہ 8 گھنٹے اور ہفتہ وار 48 گھنٹے کی حد۔

Convention No. 30 (Hours of Work – Commerce and Offices, 1930) — دفتری و تجارتی اداروں میں اوقاتِ کار کی تحدید۔

Convention No. 155 (Occupational Safety and Health, 1981) — محفوظ اور صحت مند کام کا ماحول ہر کارکن کا حق ہے۔

اسی طرح United Nations کے Universal Declaration of Human Rights (1948) کا آرٹیکل 23 اور 24 واضح کرتا ہے کہ:

ہر شخص کو منصفانہ اور موافق حالاتِ کار کا حق حاصل ہے۔

آرام و تفریح، اوقاتِ کار کی معقول تحدید، اور باقاعدہ رخصت بنیادی انسانی حق ہیں۔

پاکستان بحیثیت رکنِ اقوام متحدہ ان عالمی اصولوں کا پابند ہے۔

عزتِ نفس — ایک آئینی اور عالمی حق
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 انسانی وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
کام کی جگہ پر تحقیر آمیز لہجہ، تضحیک، دھمکی آمیز طرزِ تخاطب اور ذہنی دباؤ ڈالنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی:

ILO کا Convention No. 111 (Discrimination, 1958) امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔

ILO کا Convention No. 190 (Violence and Harassment, 2019) کام کی جگہ پر ہراسمنٹ اور ذہنی تشدد کے خلاف واضح تحفظ فراہم کرتا ہے۔

یہ اصول اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ اختیار کا استعمال وقار مجروح کیے بغیر ہونا چاہیے۔

*کیا اختیار کا مطلب یہ ہے کہ ماتحتوں کی عزتِ نفس کو روند دیا جائے؟*
*کیا انتظامی طاقت کا مقصد انسانوں کو ذہنی اذیت دینا ہے؟*

مذہب، قانون اور عالمی ضمیر — تینوں کی ہم آہنگی
اسلام مزدور کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ عدل، شفقت اور حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔

قانون بھی یہی کہتا ہے۔
آئین بھی یہی کہتا ہے۔
بین الاقوامی معاہدے بھی یہی کہتے ہیں۔

جب ادارہ جاتی ماحول میں خوف، دباؤ اور تذلیل عام ہو جائے تو سوال صرف قانونی نہیں رہتا—یہ اخلاقی، انسانی اور عالمی ذمہ داری کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

اجتماعی خاموشی یا اجتماعی بیداری؟
جب ملازمین بیماری، خاندانی مسائل اور ذاتی صدمات کے باوجود مسلسل کام کرنے پر مجبور ہوں؛
جب عزتِ نفس کی قیمت کارکردگی سے کم سمجھی جائے؛
اور جب شکایات کا نظام محض رسمی ہو—

تو ادارہ اپنی بنیادیں خود کھوکھلی کر رہا ہوتا ہے۔

ادارے طاقت سے نہیں، اعتماد سے چلتے ہیں۔
خوف وقتی نتائج دے سکتا ہے، مگر مستقل کارکردگی صرف احترام اور انصاف سے آتی ہے۔

سوال باقی ہے
*کسے وکیل کریں؟
کس سے منصفی چاہیں؟*

سب سے پہلے ہمیں اللہ کو پکارنا ہوگا، اجتماعی شعور کو جگانا ہوگا، اور اس حدیث کو محض دیواروں سے نکال کر عملی زندگی میں لانا ہوگا—

*“بہترین انسان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں”*

*اگر اختیار رکھنے والے اس معیار پر پورا نہیں اترتے، تو تاریخ، قانون، عالمی برادری اور خدا—چاروں کے سامنے جواب دہی ناگزیر ہے۔*
*معاف کرو معاف کردیئے جاو گے*

03/02/2026

منزلیں بہادروں کا انتظار کرتی ہیں

عبدالرزاق
زونل انفارمیشن سیکرٹری سیالکوٹ

بے ہمتے نے بہہ کے جیڑے شکوہ کرن مقدراں داں
اگن والے اگ پیندے نے سینہ پاڑ کہ پتھراں داں
منزل دے متھے دے اتے تختی لگدی اوہناں دی
جیہڑے گھروں بنا کے ٹردے نقشہ اپنے سفراں دا

میرے غیور، محنتی ساتھیو!

زندگی کبھی بھی آسان راستوں کا نام نہیں رہی۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہ قومیں اور وہ طبقے جنہوں نے جدوجہد کو اپنی پہچان بنایا، انہی کے نام سے زمانے روشن ہوئے۔ اور جو خوف، مصلحت اور مایوسی کے اندھیروں میں دبک کر بیٹھ گئے، تاریخ کے صفحات نے انہیں فراموش کر دیا۔

محنت کش طبقہ ہمیشہ سے اس معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو جلتی دھوپ، کڑکتی سردی، موسلا دھار بارش اور جان لیوا خطرات میں بھی اپنے فرائض ادا کرتا ہے تاکہ ملک کا نظام چلتا رہے۔ مگر تاریخ کا یہ تلخ سچ بھی ہے کہ محنت کش طبقہ اکثر اپنے ہی پسینے کی کمائی کے ثمرات سے محروم رکھا جاتا رہا ہے۔

ساتھیو!

تحریکیں نعروں سے نہیں، قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ یونین صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ یہ محنت کشوں کے وقار، اتحاد اور جہد مسلسل کی علامت ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے مظلوم کی آواز طاقت بنتی ہے اور منتشر قوتیں متحد ہو کر ایک ناقابلِ تسخیر دیوار میں بدل جاتی ہیں۔

ہمیں یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ قیادت کسی تحریک کی سمت ضرور متعین کرتی ہے مگر تحریک کو طاقت کارکن دیتے ہیں۔ ہمارا جذبہ، ہماری یکجہتی، ہماری وابستگی اور ہماری قربانیاں ہی وہ ایندھن ہیں جو قیادت کے عزم کو جلا بخشتی ہیں۔ اگر کارکن کمزور پڑ جائیں تو مضبوط قیادت بھی اپنی تاثیر کھو دیتی ہے، اور اگر کارکن سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو مشکلات کے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔

یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمیں خرشید احمد خان جیسی مدبر، زیرک اور بصیرت افروز قیادت میسر ہے۔ عبد اللطیف نظامانی، رمضان اچکزئی اور گوہر تاج جیسے نڈر رہنما ہمارے قافلے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ ولی الرحمن خان، میاں عطا الرحمن، جاوید بلوچ، رانا شہزاد جمیل، سیٹھ فیاض، رانا زاہد رشید اور نوید عامر جیسے بے خوف ساتھی اس تحریک کے وہ سپاہی ہیں جو ہر محاذ پر استقامت کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کو ایک ناقابلِ شکست قوت بناتے ہیں۔

ساتھیو!

یاد رکھیں، تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کے نام لکھتی ہے جو حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے انہیں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جب مکہ کی گلیوں میں ظلم کا راج تھا تو اہلِ ایمان نے صبر اور استقامت کا علم بلند رکھا۔ ہجرت مدینہ صرف نقل مکانی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف مزاحمت کا اعلان تھی۔ بدر کا معرکہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ وسائل نہیں بلکہ یقین اور حوصلہ فتح کا راستہ بناتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال قید کاٹی مگر اپنے نظریے سے پیچھے نہ ہٹے۔ ابراہم لنکن نے مسلسل ناکامیوں کے باوجود جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر تاریخ کے عظیم رہنماؤں میں شمار ہوئے۔

آج ہمارا محنت کش طبقہ بھی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ حالات کا غلام بنے گا یا اپنے حق کے لیے تاریخ رقم کرے گا۔

ساتھیو!

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ جب محنت کش متحد ہو جاتے ہیں تو بڑے سے بڑا استحصالی نظام بھی لرز اٹھتا ہے۔ استعمار کی قوتیں ہمیشہ مزدور کے اتحاد سے خوفزدہ رہی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ بکھرے ہوئے مزدور کمزور ہوتے ہیں مگر متحد مزدور ناقابلِ شکست ہوتے ہیں۔

وہ کیا خوب کہا گیا ہے:

دیا جلا کے سبھی بام و در میں رکھتے ہیں
اور ایک ہم ہیں اسے رہ گزر میں رکھتے ہیں
سمندروں کو بھی معلوم ہے ہمارا مزاج
کہ ہم تو پہلا قدم ہی بھنور میں رکھتے ہیں

یہ وقت مایوسی کا نہیں، یہ وقت عزم کا ہے۔ یہ وقت خوف کا نہیں، یہ وقت جرات کا ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد، نظم و ضبط اور قربانی کے جذبے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے منظم، باشعور اور متحرک ہونا ہوگا۔

یاد رکھیں!

منزلیں کبھی بزدلوں کو آواز نہیں دیتیں۔ منزلیں ہمیشہ ان لوگوں کا انتظار کرتی ہیں جو خطرات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جو اپنے خون اور پسینے سے تاریخ لکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اتحاد کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنی قیادت کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ ہم اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ظلم، ناانصافی اور استحصال کے ہر نظام کو للکاریں گے۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے:

اگر خلاف ہیں۔۔۔ ہونے دو۔۔۔ جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے۔۔۔ آسمان تھوڑی ہے
جو آج صاحبِ مسند ہیں۔۔۔ کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں۔۔۔ ذاتی مکان تھوڑی ہے

ساتھیو!

تاریخ ہمارے عزم کی منتظر ہے، منزلیں ہمارے قدموں کی آہٹ سن رہی ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے حوصلے بلند رکھیں، اپنی صفیں متحد رکھیں اور جدوجہد کا علم سر بلند رکھیں۔

کیونکہ یاد رکھیں…
منزلیں ہمیشہ بہادروں کا انتظار کرتی ہیں۔

02/02/2026

انسان کی پہچان: برتری کا سراب اور مساوات کی صداقت
(تحریر: عبدالرزاق زونل انفارمیشن سیکرٹری سیالکوٹ زون)
اکو تیرا میرا پیو،
اکو تیری میری ماں ۔
اکو ساڈی جمن بھوں،
توں سردار میں کمیں کیوں
یہ چند مصرعے انسانی تاریخ کے ایک ایسے ناسور کو چھیڑتے ہیں جو تہذیبوں کی چمک دمک کے باوجود صدیوں سے انسان کے وجود کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ دنیا نے علم، فلسفہ، سیاست اور سائنس میں بے شمار ترقی کی، مگر انسان کو انسان تسلیم کرنے کا بنیادی سبق آج بھی ادھورا دکھائی دیتا ہے۔ نسل، طبقے، پیشے اور طاقت کی بنیاد پر انسان کو تقسیم کرنے کی روایت اتنی پرانی ہے کہ ہر تہذیب کے آئینے میں اس کے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔
قدیم ہندوستان کی تہذیب میں ذات پات کا نظام صدیوں تک انسانی رشتوں پر حکمرانی کرتا رہا۔ ایک ہی زمین پر جنم لینے والے افراد کو محض پیدائش کے خانے میں قید کر دیا گیا۔ کسی کے حصے میں اقتدار، عزت اور مراعات آئیں، جبکہ کسی کے نصیب میں محرومی، ذلت اور مشقت لکھی گئی۔ یہ تقسیم صرف سماجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی تھی، جس نے انسان کے شعور کو اس حد تک جکڑ لیا کہ محکوم طبقہ بھی اپنے استحصال کو تقدیر سمجھنے لگا۔
اگر مغربی دنیا کی طرف دیکھا جائے تو وہاں بھی صورت حال کچھ مختلف نہ تھی۔ یورپ کی جاگیردارانہ معاشرت میں لارڈ اور کسان کے درمیان فاصلے صرف معاشی نہیں بلکہ وجودی تھے۔ کسان زمین سے جڑا ضرور تھا مگر زمین کا مالک نہیں تھا۔ اسی طرح امریکہ میں غلامی کا دور انسانیت کے ماتھے پر وہ سیاہ داغ ہے جہاں رنگ اور نسل کی بنیاد پر انسان کو خرید و فروخت کی چیز بنا دیا گیا۔ ایک ہی خدا، ایک ہی فطرت اور ایک ہی انسانی ساخت کے باوجود آزادی اور غلامی کے پیمانے الگ الگ تراشے گئے۔
افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نوآبادیاتی تاریخ بھی اسی جبر کی داستان سناتی ہے جہاں مقامی آبادی کو محض وسائل تک رسائی کے راستے کی رکاوٹ سمجھا گیا۔ طاقتور قوموں نے تہذیب اور ترقی کے نام پر ان کی شناخت، ثقافت اور انسانی وقار کو روند ڈالا۔ یہ رویہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ طاقت جب اخلاقیات سے خالی ہو جائے تو تہذیب بھی ظلم کا جواز بن جاتی ہے۔
برصغیر کے معاشرتی ڈھانچے میں پیشے کی بنیاد پر قائم تقسیم بھی اسی سوچ کی ایک شکل ہے۔ مزدور، کسان اور محنت کش طبقہ ہمیشہ معاشی نظام کا ستون رہا مگر سماجی احترام کے پیمانے پر انہیں نچلے درجے پر رکھا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ معاشرے کی ترقی انہی ہاتھوں کی محنت سے جڑی ہوتی ہے جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ طاقت اور اختیار کا مرکز محدود طبقے کے پاس رہتا ہے جبکہ محنت کرنے والا طبقہ صرف نظام کو چلانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ تضاد صرف مشرق یا مغرب تک محدود نہیں بلکہ جدید دنیا میں بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ کارپوریٹ نظام میں عہدوں کی تقسیم، معاشی ناہمواری، اور سماجی امتیاز نئی صورتوں میں وہی پرانا سوال دہراتے نظر آتے ہیں۔ عالمی سطح پر ترقی کے دعوے اپنی جگہ مگر وسائل کی غیر مساوی تقسیم یہ بتاتی ہے کہ انسانی مساوات کا خواب ابھی مکمل تعبیر سے دور ہے۔
تاریخ کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ ہر دور میں مساوات کی آوازیں ضرور بلند ہوئیں۔ فلسفیوں، مصلحین اور انقلابی تحریکوں نے انسان کی بنیادی برابری کو تسلیم کرانے کی جدوجہد کی۔ مگر معاشرتی ڈھانچے میں طاقت کے توازن نے ہمیشہ اس جدوجہد کو ایک مسلسل کشمکش میں رکھا۔ یہی کشمکش انسانی تاریخ کا مستقل موضوع رہی ہے اور شاید آئندہ بھی رہے گی۔
یہ فکر انسان کو اپنے وجود کے بنیادی سوال کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتی ہے کہ جب پیدائش، فطرت اور زمین سب کی مشترک ہے تو برتری اور کم تری کے پیمانے کہاں سے جنم لیتے ہیں۔ تہذیبوں کی اصل عظمت اسی میں ہے کہ وہ طاقت کے بجائے انصاف کو بنیاد بنائیں۔ جب تک معاشرے انسانی وقار کو طبقاتی شناخت سے بالاتر ہو کر تسلیم نہیں کرتے، ترقی کے تمام دعوے محض ظاہری چمک بن کر رہ جاتے ہیں۔

31/01/2026

مزدور، ریاست اور ہمارے اجتماعی ضمیر کا سوال
(تحریر: عبدالرزاق زونل انفارمیشن سیکرٹری سیالکوٹ زون)
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان کو سمجھنا ہو تو بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں نہیں بلکہ کسی بھٹہ خشت، کسی تعمیراتی سائٹ یا کسی سڑک کنارے بیٹھے دیہاڑی دار مزدور کے پاس جا کر بیٹھنا چاہیے۔ وہاں پاکستان صرف نظر نہیں آتا بلکہ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔
ہم ترقی کی بات بہت کرتے ہیں۔ کبھی شرحِ نمو کے اعداد و شمار، کبھی بڑے منصوبے، کبھی معاشی استحکام کے دعوے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترقی واقعی نیچے تک پہنچی ہے؟ کیا وہ مزدور جس کے ہاتھوں کی سختی ہمارے شہروں کو مضبوط بناتی ہے، خود بھی کسی مضبوط زندگی کا حصہ بن سکا ہے؟
سچ یہ ہے کہ اس ملک میں مزدور ہمیشہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تو رہا مگر ترجیحات کی فہرست میں شاید آخری درجے پر رکھا گیا۔ وہ اینٹ اٹھاتا ہے، دیوار کھڑی کرتا ہے، پل بناتا ہے، مگر اپنی زندگی کے پل اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں۔
یہ تضاد صرف نجی شعبے تک محدود نہیں بلکہ سرکاری اداروں میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا لائن سٹاف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو شدید گرمی، سردی، بارش اور طوفان میں بجلی کی فراہمی بحال رکھنے کے لیے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ بجلی بحال ہوتے ہی صارفین سکون کا سانس لیتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی کوئی یہ سوچتا ہو کہ اس روشنی کے پیچھے کس کا پسینہ اور کس کی جان داؤ پر لگی ہوتی ہے۔

گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی میں ٹرانسپورٹ پالیسی متعارف کروائی گئی۔ اس پالیسی کے تحت افسران کو سہولیات فراہم کرنے کے نام پر سرکاری گاڑیاں فوری فراہم کردی گئیں، یہاں تک کہ کئی افسران کو دو دو گاڑیاں مہیا کر دی گئیں۔ دوسری جانب وہ لائن سٹاف جو بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر اپنی جان خطرے میں ڈال کر نظام کو فعال رکھتا ہے،وہ میٹر ریڈر جو بیک وقت کمپیوٹر آپریٹ بھی ہے، کیمرہ مین بھی ہے، بجلی چوروں کے خلاف نبرد آزما بھی ہے، آج تک اس نآم نہاد ٹرانسپورٹ پالیسی کے ثمرات سے محروم ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ٹرانسپورٹ پالیسی متعارف کرواتے وقت فیلڈ سٹاف کا ذکر صرف اس لیئے کیا گیا تھا ان کو لالی پوپ دے کر افسران کو فراعات دینا مقصوسد تھیں۔یہ مزدور اب بھی لاروں یا غیر محفوظ ذرائع نقل و حمل کے ذریعے ڈیوٹی سرانجام دینے پر مجبور ہیں۔

یہ صرف سہولت کا مسئلہ نہیں بلکہ عزت، تحفظ اور ترجیحات کا مسئلہ ہے۔ جب ایک ادارہ اپنے فیلڈ سٹاف کو محفوظ اور باوقار سفری سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کا مطلب صرف انتظامی کمزوری نہیں بلکہ نظامی عدم توازن ہوتا ہے۔

مجھے ہمیشہ مزدور کی خاموشی سے خوف آتا ہے۔ احتجاج کرنے والا طبقہ قابلِ گفتگو ہوتا ہے، مگر خاموش رہنے والا طبقہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ لائن سٹاف کا کام صرف تکنیکی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ بجلی کے نظام میں معمولی سی غلطی جان لیوا حادثے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں بنیادی سہولیات کا فقدان محض محرومی نہیں بلکہ خطرے کو دعوت دینا ہے۔

وسعت اللہ خان اکثر اپنے کالموں میں یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ پاکستان میں اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ یہی صورتحال یہاں بھی نظر آتی ہے۔ جب فیصلہ سازی کا محور فیلڈ کے بجائے دفاتر بن جائیں تو زمینی حقیقتیں پالیسیوں سے غائب ہو جاتی ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ لائن سٹاف بجلی کے نظام کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ خطرات کا سامنا کرنے والا حصہ ہے۔ شدید موسم، ہائی وولٹیج تنصیبات اور ہنگامی صورتحال میں کام کرنا کسی بھی پیشے میں غیر معمولی خطرات کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے میں بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنا صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی سوال بھی ہے۔

فیض احمد فیض نے شاید اسی احساسِ محرومی کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا:

"ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
اک کھیت نہیں، اک دیش نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے"

یہ الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ محنت کش طبقہ صرف اجرت نہیں بلکہ عزت اور تحفظ بھی چاہتا ہے۔

علامہ اقبال کا پیغام بھی آج اسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے:

"جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو"

یہ دراصل ایک اصول ہے کہ وہ نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا جو محنت کرنے والوں کو ان کا جائز حق نہ دے سکے۔

آج سوال صرف مزدور کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی انصاف کا ہے۔ اگر وہ ہاتھ جو قوم کو روشنی فراہم کرتے ہیں خود عدم تحفظ کا شکار رہیں تو ترقی کے تمام دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔

ہمیں شاید یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معیشت کی بنیاد دفاتر میں نہیں بلکہ فیلڈ میں کھڑے مزدور کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو جائے تو عمارت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دے، دیرپا نہیں رہتی۔

مسئلہ وسائل کا نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ جب تک محنت کو عزت، فیلڈ سٹاف کو تحفظ اور مزدور کو مساوی اہمیت نہیں دی جاتی، ترقی کا بیانیہ ادھورا رہے گا۔

اور اگر کبھی یہ محنت کش طبقہ اپنے وجود کی اہمیت کو پوری شدت سے محسوس کرنے لگے تو پھر مسئلہ صرف سہولیات کا نہیں رہے گا، بلکہ پورے نظام کے توازن کا سوال بن جائے گا۔

31/01/2026

ترقی کے دعوے اور محرومی کا بڑھتا ہوا اندھیرا
٭(تحریر: عندالرزاق زونل سیکرٹری انفارمیشن سیالکوٹ زون)٭
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں محنت کرنے والے ہاتھ اکثر خالی رہ جاتے ہیں جبکہ وسائل پر قابض طبقہ مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ پسینہ بہانے والے لوگ شدید دھوپ میں جلتے رہتے ہیں، مگر ان کی زندگی میں آسائش تو درکنار، بنیادی ضروریات تک پوری نہیں ہو پاتیں۔ ترقی اور خوشحالی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ محرومی کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔
حالات کا المیہ یہ نہیں کہ مشکلات موجود ہیں بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ نظام انہیں کم کرنے کے بجائے بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ جب خیمے اکھڑتے ہیں تو الزام صرف آندھیوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس میں ان ہاتھوں کی کمزوری بھی شامل ہوتی ہے جو انہیں مضبوطی سے تھامنے کے ذمہ دار تھے۔ حکمرانی کا بنیادی اصول عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، مگر یہاں ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے ناکامیوں کو حالات کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
معاشرے کا سب سے ہولناک منظر وہ ہے جہاں نوجوان لاشوں کی صورت زمین پر گر رہے ہوتے ہیں اور مائیں اپنے جگر گوشوں کے سینے سے لپٹ کر بین کر رہی ہوتی ہیں، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں اعزازات تقسیم ہو رہے ہوتے ہیں۔ انسانی جانوں کی قربانیاں یہاں اعداد و شمار میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور مفادات کی سیاست انہیں محض ایک خبر بنا دیتی ہے۔
یہ نظام خواب دیکھنے والوں کے ساتھ بھی عجیب سلوک کرتا ہے۔ ایک عام گھر کی بیٹی زندگی کے رنگین خواب سجاتی ہے، مگر غربت اور حالات کی سختی اس کے خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ معاشرہ ایسے دکھوں پر ہمدردی کے بجائے تماشا دیکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ حساسیت ختم ہو جائے تو معاشرے صرف ہجوم رہ جاتے ہیں۔
زندگی کا سفر سب کے لیے ایک جیسا دکھائی دیتا ہے، راستہ بھی ایک ہوتا ہے اور منزل بھی، مگر کامیابی ہمیشہ وسائل رکھنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ کمزور طبقہ حالات کے بہاؤ میں بہہ جاتا ہے اور اسے منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی جدوجہد چھوڑنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ناانصافی ہے جو کسی بھی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
طبقاتی تقسیم اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ایک طرف جشن اور خوشیوں کی محفلیں سجتی ہیں جبکہ دوسری طرف جھونپڑیوں میں چولہے بجھ جاتے ہیں۔ طاقتور طبقات کی خوشحالی اور غریب طبقے کی محرومی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق معاشرتی توازن کو تباہ کر رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تضادات زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی محنت اور قربانیوں سے دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں، خود نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ معاشرے کی ترقی میں حصہ ڈالنے والے افراد جب اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رہ جائیں تو یہ اجتماعی ناکامی ہوتی ہے۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ترقی کے دعوے تب ہی معتبر ہو سکتے ہیں جب اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ اگر خوشحالی چند ہاتھوں تک محدود رہے اور محرومی اکثریت کا مقدر بن جائے تو یہ ترقی نہیں بلکہ ایک منظم ناانصافی ہوتی ہے۔
ریاست، سماج اور قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محروم طبقات کو نظر انداز کر کے پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انصاف پر مبنی نظام ہی کسی معاشرے کو استحکام اور حقیقی خوشحالی دے سکتا ہے۔ بصورت دیگر تاریخ ایسے معاشروں کو صرف ایک مثال کے طور پر یاد رکھتی ہے، جہاں طاقت تو موجود تھی مگر انسانیت ناپید ہو چکی تھی۔
اس مضمون کی انقلابی شاعر بابا نجمی نے اپنی ایک نظم میں بڑے احسن انداز میں عکاسی کی ہے جو قارئین کے ذوق کی نظر کی جاتی ہے
اگّ وی ہمتوں بہتی دتی، پھر وی بھانڈے پلے رہے ۔
بھامبڑ جہیاں دھپاں وچ وی، میرے لیڑے گلے رہے ۔
دوش دیؤ نہ جھکھڑاں اتے، سر توں اڈے تنبوآں دا،
کلے ٹھیک نئیں ٹھوکے کھورے، ساتھوں رسے ڈھلے رہے ۔
ایدھر گبھرو لاشاں ڈگیاں، سینے پاٹے ماواں دے،
اودھر ٹھیک نشانے بدلے، لگدے تغمیں بلے رہے ۔
میں وی دھی سی ڈولے پاؤنی، سوہا جوڑا لین گیا،
ویکھ کے میری حالت ولے، ہسدے گوٹے طلے رہے ۔
رستہ، پینڈا، ویلا اکو، منزل اتے اپڑن دا،
پٹنگے تقدیراں بہہ کے، ذرا وی جہڑے ڈھلے رہے ۔
اک دہاڑے بدل وسیا، جشن منایا چودھریاں،
جھگیاں دے پھر کئی دہاڑے، بالن چلھے سلھے رہے ۔
ساڈا حالَ وی پچھن جوگی، اوہناں پلے فرصت نہیں،
جنھاں دی تنگ دستی دے لئی، 'بابا' کٹدے چھلے رہے ۔

Address

Sialkot

Telephone

+923007134427

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot:

Share