PK Daily Scoop

PK Daily Scoop تازہ ترین خبروں کی مکمل کوریج، اور آپ کی زندگی پر اثر انداز ہونے والے واقعات کا جائزہ۔ پی کے ڈیلی اسکوپ

’راجہ کو رانی سے پیار ہو گیا‘: عامر خان کی نئی گرل فرینڈ گوری پریٹ کون ہیں؟بالی وڈ کے سپر سٹار اور ’مسٹر پرفیکٹ‘ عامر خا...
18/03/2025

’راجہ کو رانی سے پیار ہو گیا‘: عامر خان کی نئی گرل فرینڈ گوری پریٹ کون ہیں؟

بالی وڈ کے سپر سٹار اور ’مسٹر پرفیکٹ‘ عامر خان رواں ہفتے 60 برس کے ہو گئے ہیں۔ اپنی سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ایک پارٹی میں انھوں نے کہا کہ وہ ایک رومانوی تعلق میں ہیں۔

عامر خان جمعرات کو اپنی سالگرہ منا رہے تھے۔ اس دوران انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں اپنی زندگی اور فلم انڈسٹری میں اپنے سفر پر بات کی۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی نئی گرل فرینڈ کا نام گوری پریٹ ہے جن کے ساتھ وہ 18 ماہ سے تعلق میں ہیں۔

انھوں نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرے لیے یہ تعلقات بہت اہم ہیں۔‘

یاد رہے کہ عامر خان اس سے قبل دو شادیاں کر چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی پہلی بیوی رینا دتہ سے طلاق کے بعد کرن راؤ سے شادی کی تھی اور پھر سنہ 2021 میں ان کی کرن راؤ سے بھی طلاق ہوگئی تھی۔

عامر خان اور رینا دتہ سنہ 2002 میں الگ ہو گئے تھے۔ اس شادی سے ان کے دو بچے ہیں۔ سنہ 2005 میں انھوں نے فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار کرن راؤ سے شادی کی تھی اور پھر 2021 میں دونوں میں علحیدگی ہو گئی۔ اس شادی سے ان کا ایک بیٹا ہے۔

تاہم عامر کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے بعد بھی دونوں کے درمیان اچھی دوستی ہے اور دونوں مل کر اپنے بیٹے کی پرورش کر رہے ہیں۔

دونوں نے فلم ’لاپتا لیڈیز‘ میں بھی ایک ساتھ کام کیا تھا۔

عامر خان کی نئی گرل فرینڈ گوری پریٹ کون ہیں؟
عامر خان نے اس پریس کانفرنس میں گوری پریٹ کو متعارف کرانے سے پہلے اپنی فلم ’لگان‘ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’بھوون کو اپنی گوری مل گئی ہے۔‘

یاد رہے کہ 2001 میں ریلیز ہونے والی فلم ’لگان‘ میں مرکزی کردار عامر خان اور گریسی سنگھ نے ادا کیے تھے۔ فلم میں عامر کے کردار کا نام بھوون جبکہ گریسی کے کردار کا نام گوری تھا۔

عامر خان نے پریس کانفرنس میں اپنی ایک اور فلم ’راجہ کو رانی سے پیار ہو گیا‘ کا گانا بھی گایا اور اپنی گرل فرینڈ گوری کے بارے میں مزید معلومات شیئر کیں۔

انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ آپ کسی اچھے موقع پر ان سے ملیں گے اور پھر ہم بھی اس بات کو خفیہ نہیں رکھنا چاہتے۔ میں نے سلمان خان اور شاہ رخ خان سے ان کی ملاقات کا انتظام کیا ہے۔‘

عامر خان کی سالگرہ کے موقع پر سلمان خان اور شاہ رخ خان بھی ان کے گھر پہنچے تھے۔

اپنی گرل فرینڈ کے بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ وہ ’بنگلور کی رہنے والی ہے۔ دراصل ہم دونوں ایک دوسرے کو 25 سال سے جانتے ہیں۔ لیکن ہماری ملاقات ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی۔‘

’وہ کسی کام کے سلسلے میں ممبئی میں تھیں اور ہماری اچانک ملاقات ہوئی۔ تب سے ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہے اور سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا ہوتا ہے۔‘

ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، گوری ریٹا پریٹ کی بیٹی ہیں اور ان کی والدہ بنگلور میں ایک سیلون کی مالک ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسی شہر میں گزاری ہے۔

عامر خان نے اپنے رشتے کے بارے میں کیا کہا؟

عامر خان نے کہا کہ ’میں خوش قسمت ہوں کہ میں مضبوط رشتوں میں رہا ہوں۔ رینا کے ساتھ میرا رشتہ تقریباً 16 سال تک چلا۔ اس کے بعد میں نے کرن کے ساتھ 16 سال گزارے اور ایک طرح سے ہم اب بھی ساتھ ہیں۔ میں نے زندگی میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں گوری کے ساتھ سکون محسوس کرتا ہوں۔'

گوری کے بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کا ایک چھ سالہ بیٹا ہے جو ذہین ہے اور ان سے مل کر خوش ہے۔

دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، گوری نے میڈیا کو بتایا کہ عامر خان کے خاندان نے ’کھلے دل سے ان کا استقبال کیا‘ اور ہر کسی کا ان کے ساتھ برتاؤ اچھا تھا۔

عامر خان نے کہا ’گوری اب میرے پروڈکشن ہاؤس میں کام کرتی ہے۔‘

شادی کے سوال پر عامر خان نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ ساٹھ سال کی عمر میں شادی میرے لیے مناسب ہے یا نہیں۔

’لیکن میرے بچے خوش ہیں اور میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرے سابقہ بیویوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔‘

گوجرانوالہ سکول ریپ کیس: ’ہماری موجودگی میں بچیوں سے ایسے سوال کیے جاتے ہیں کہ شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں‘__________’ج...
13/03/2025

گوجرانوالہ سکول ریپ کیس: ’ہماری موجودگی میں بچیوں سے ایسے سوال کیے جاتے ہیں کہ شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں‘__________

’جتنی ذلت آج ہمیں برداشت کرنا پڑ رہی ہے اس سے بہتر تھا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروا کر اسے گرفتار ہی نہ کرواتے۔‘

یہ الفاظ ان پانچ میں سے ایک کمسن بچی کے والد کے ہیں (جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) جنھیں مبینہ طور پر گوجرانوالہ کے ایک نان فارمل ایجوکیشن سکول میں ایک کنٹین چلانے والے ملزم نے دو ہفتے قبل ریپ کیا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزم، جو کہ اسی سکول کی ایک ٹیچر کا خاوند بھی تھا، نے اس سکول میں زیر تعلیم پانچ بچیوں کے ساتھ مبینہ ریپ کیا تھا اور ان کی ویڈیوز بھی بنائی تھیں۔

تاہم ایک بچی کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تفتیش کا عمل کیسے ان کے اور ان کی بیٹی کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بیٹی کے ساتھ ریپ کے واقعے کے بعد تفتیش اور کارروائی کی غرض سے دیگر متاثرہ بچیوں کو متعدد بار وہ کبھی لاہور لے کر جاتے ہیں۔

’کبھی پولیس کے سامنے، کبھی ڈاکٹر تو کبھی مجسٹریٹ کے پاس اور وہاں پر ان بچیوں کے والدین کی موجودگی میں اس واقعہ سے متعلق ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کو سن کر کر ہم شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں اور یہ عمل بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔‘

پولیس کا موقف ہے کہ اس واقعہ سے متعلق جو مقدمات درج کیے گئے ہیں اس میں ریپ کے ساتھ ساتھ چائلڈ پورنوگرافی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں اور یہ دونوں دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔ پولیس کے مطابق اس واقعے سے پہلے ملزم کا جرائم پیشہ ہونے کا کوئی ریکارڈ پولیس کے پاس موجود نہیں ہے۔

’مالی وسائل بھی نہیں اور تماشا بھی بنایا جا رہا ہے‘

گوجرانوالہ کے ایک پسماندہ علاقے کے رہائشی روزانہ اجرت کی بنیاد پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ان کی زندگی کو بدل کے رکھ دیا ہے۔

ان دنوں اب وہ تقریبا ہر دوسرے دن گاڑی کرائے پر لے کر متاثرہ بچیوں کو لاہور لیکر جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’دیگرمتاثرہ بچیوں کے والدین بھی مالی طور پر بہت کمزور ہیں اور ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہر دوسرے دن ہزاروں روپے خرچ کرکے اپنی بچیوں کو لاہور اور دیگر جگہوں پر لے کر جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب پولیس حکام کو اس واقعہ کا علم ہو بھی چکا ہے اور میڈیکل رپورٹ میں بھی ریپ ہونا ثابت ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملزم نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے تو پھر کیوں ہمیں دنیا کے سامنے تماشا بنایا جارہا ہے۔‘

اس واقعہ کے بعد انھوں نے اپنی بچیوں کو گھر کے باہر کا دروازہ بھی نہیں دیکھنے دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’اب تو حالات یہ ہیں کہ نگرانی میں بچیوں کو سکول چھوڑ کر آئیں اور اپنی ہی نگرانی میں بچیوں کو گھر واپس لیکر آئیں۔‘

’گھر سے نہیں نکلتے کہ باہر لوگ بچی کے بارے میں سوالات پوچھیں گے‘

ایک اور بچی کی والدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعہ کے بعد میرے شوہر اس وجہ سے گھر سے ہی نہیں نکل رہے کہ باہر لوگ بچی کے بارے میں ان سے پوچھیں گے تو وہ کیا جواب دیں گے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’شوہر کے باہر نہ جانے کی وجہ سے نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے اور کبھی ایک وقت کھانا ملتا ہے تو دوسرے ٹائم بھوکا ہی رہنا پڑتا ہے۔‘

متاثرہ بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کی عمر 12 سال ہے اور وہ اس سکول میں چوتھی کلاس میں پڑھتی تھیں۔

’بچی نے کہا کہ مجھےسکول نہیں جانا اور جب اس کی بڑی بہن نے سکول نہ جانے کی وجہ پوچھی تو پھر اس نے بتایا کہ سکول ٹیچر کے خاوند نے اسے متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر بچیوں کے ساتھ بھی ریپ کیا ہے۔‘

متاثرہ بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب ان کی بیٹی کی سکول کی استانی سے اس کے خاوند، جس کو تمام بچیاں ’بھائی جان‘ کہتی تھیں، کی شکایت کی گئی تو انھوں نے اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’تم کل کی بچیاں میرے شوہر پر کیسے الزام لگا سکتی ہو۔‘
مقدمے میں ریپ اور چائلڈ پورنوگرافی کی دفعات شامل

ڈی آئی جی ایاز سلیم سٹی پولیس افسر گوجرانوالہ ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی تفتیش بڑی حد تک مکمل کرلی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم نے پولیس کی تحویل میں اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔

ڈی آئی جی ایاز سلیم کا کہنا تھا کہ اگرچہ پولیس کی موجودگی میں ملزم کے اعتراف جرم کے بیان کی کوئی حثیت نہیں ہے لیکن متاثرہ بچیوں نے ملزم کی موجودگی میں علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیے ہیں کہ ان کے ساتھ ملزم نے ریپ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق جو مقدمات درج کیے گئے ہیں اس میں ’ریپ کے ساتھ ساتھ چائلڈ پورنوگرافی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں اور یہ دونوں دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔‘

متاثرہ بچیوں اور ان کے ورثا کو بار بار پولیس سٹیشن اور دیگر مقامات پر بلانے سے متعلق سٹی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی باعزت شخص یہ نہیں چاہتا کہ ان کی بچیوں کا نام کہیں پر آئے لیکن بدقسمتی سے یہ ہماری تفتیش کا حصہ ہے جس کی وجہ سے انھیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ابھی جب یہ مقدمہ عدالتوں میں جائے گا تو وہاں پر بھی ان متاثرہ بچیوں سے ایسے سوالات پوچھے جائیں گے کہ اگر عام حالات میں ایسے سوال پوچھے جائیں تو لوگ مرنے اور مارنے کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

ڈی ائی جی ایاز سلیم کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کی ہے اور ایسے ناقابل تردید شواہد ہیں جن کے ہوتے ہوئے ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا۔

تفتیش اور متضاد دعوے
گوجرانوالہ ریپ کیس کی تفتیش کے بارے میں مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں سے پوچھ گچھ کے دوران اگرچہ مرد اہلکار سوال کرتے تاہم ایک خاتون کانسٹیبل موجود رہتیں۔

تاہم ایک متاثرہ بچی کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ لیڈی کانسٹیبل ایک یا دو مربتہ ہی تفتیش کے دوران موجود تھیں۔ ان کے مطابق ’جب بچیوں کو لاہور لے جایا جاتا تو لیڈی کانسٹیبل ان کے ساتھ نہیں ہوتی تھیں۔‘

دوسری جانب سٹی پولیس افسر گوجرانوالہ ڈی آئی جی ایاز سلیم سے جب اس نوعیت کی تفتیش کی حساسیت اور اس سے جڑے نفسیاتی اثرات کے بارے میں بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ریپ کیسز کی تحقیقات کے دوران ایک خاتون ماہر نفسیات کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں جو پولیس کی جانب سے اس مقدمے کی تحقیقات میں پوچھے جانے والے سوالات سے متعلق ریپ کا شکار ہونے والی خاتون یا بچی کو پہلے سے آگاہ کر دیتی ہے تاکہ جب سوال پوچھیں جائیں تو وہ پرشان نہ ہوں۔‘

تاہم متاثرہ بچیوں میں سے ایک کے اہلخانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بچیوں سے ہونے والی پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے اب تک کسی ماہر نفسیات کو نہیں دیکھا۔

اس بارے میں بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات رپورٹ کرنے والے ادارے ساحل سے وابستہ ایڈووکیٹ امتیاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس ابھی تک ایسا کوئی نظام وضع نہیں کر سکی ہے جس میں متاثرہ بچوں سے تفتیش اس انداز سے کی جائے کہ پھر وہ سہم نہ جائیں اور خوف ان کے اندر گھر نہ کر سکے۔‘

ان کے مطابق ’اس وقت پولیس ہر جرم کی طرح اس طرح کے مقدمات میں بھی تفتیش کو معمول کے مطابق آگے بڑھاتی ہے اور بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ نہیں لیتی۔‘

امتیاز احمد کے مطابق ’سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک تفصیلی فیصلے میں پولیس کو اس بات کا پابند بنایا تھا کہ وہ اپنی تفتیش سے پہلے متاثرہ بچے یا بچی کو کسی ایسے ادارے یا این جی او کے پاس بھیجیں گے جہاں اس کی ٹھیک طریقے سے 'کونسلنگ' ہو سکے۔‘

ان کی رائے میں ’عدالتوں میں فیصلے بھی آ جاتے ہیں مگر پھر سوال عملدرآمد پر آ کر اٹک جاتا ہے۔‘

ایڈووکیٹ امتیاز احمد کے مطابق ’جب ایسے فیصلے اور رہنمائی کر دی جائے تو پھر یہ پولیس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے لیے اس انداز میں ایس او پیز تیار کریں تا کہ مستقبل میں وہ ایسے متاثرہ خاندانوں اور ان کے بچوں کے لیے زحمت کا باعث نہ بنیں۔‘

نان فارمل ایجوکیشن سکول کیا ہیں؟
گوجرانوالہ کے جس سکول میں ریپ اور بچیوں کی وڈیوز بنانے کے واقعات پیش آئے وہ نان فارمل ایجوکیشن سکول سسٹم ہے جسے قائم ہوئے سات سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔

نان فارمل ایجوکیشن سکول ایسی جگہوں پر کھولے جاتے ہیں جہاں پر محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اکثریت میں رہتے ہیں۔

نان فارمل ایجوکیشن سکول سسٹم پنجاب حکومت کے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کا منصوبہ ہے اور یہ سکول ایسے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں کھولے جاتے ہیں جہاں پر عام لوگوں کو سرکاری اور پرائیویٹ سکولز تک رسایی نہیں ہوتی۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایسے سکولز کی تعداد 13 ہزار سے زیادہ ہے جس میں ساڑھے چار لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔

یہ سکولز پرائمری لیول تک کے ہوتے ہیں اور ایسے سکولز میں بچوں کی عمر کو سامنے نہیں رکھ جاتا اور وہ جس عمر میں بھی ہوں، وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان سکول میں داخلہ لے سکتے ہیں۔

گوجرانوالہ میں نان فارمل ایجوکشن سکولوں کی تعداد 413 ہے جس میں زیادہ تر بچوں کے والدین یا تو اینٹوں کے بھٹوں پر محنت مزدوری کرتے ہیں اور یا پھر ان کی مائیں لوگوں کے گھروں میں برتن دھونے اور صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہیں۔

محکمہ ایجوکیشن کے ایک اہلکار کے مطابق اگر کوئی شخص 15 سے 20 بچوں کو متعقلہ محکمے کے حکام کے سامنے ظاہر کر دے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی گھر کے کاغذات بھی پیش کردے تو اسے سکول کھولنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

تاہم جس کو سکول کھولنے کی اجازت دی گئی ہے اس کے کردار کے بارے میں جانچ پڑتال کرنے کی کوئی مثال ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

نان فارمل ایجوکیشن سسٹم کی انچارج فوزیہ زریں کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے سکول کو چلانے کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے دیتی ہے جس میں ٹیچر کی تنخواہ اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔

سپروائزری رول موجود لیکن مانیٹرنگ کے وسائل نہیں: ڈی سی گوجرانوالہ
اس واقعہ کے بارے میں جب فوزیہ زریں سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ نان فارمل سکول سسٹم کے ڈائریکٹر جنرل خرم شہزاد سے رابطہ کرکے ان سے اس واقعہ کے بارے میں موقف لے سکتے ہیں۔

بی بی سی نے متعدد بار نان فارمل سکول سسٹم کے سربراہ سے رابطہ کرکے ان سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔

گوجرانوالہ میں نان فارمل سکول سسٹم کی انچارج نے دعویٰ کیا کہ جن پانچ کمسن بچیوں کے ساتھ مبینہ ریپ ہوا ہے اس میں تین بچیاں اس سکول کی نہیں ہیں تاہم مقامی پولیس نے اس دعوی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پانچوں بچیاں اسی گھر میں پڑھنے جاتی تھیں جہاں پر یہ سکول قائم کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ محمد طارق قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت شہر بھر میں نو ہزار کے قریب نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ مدارس ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر چہ ان کا اس معاملے میں سپروائزری رول ہے لیکن ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ان تمام اداروں کی مانیٹرنگ کی جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد ایسے سکولوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

انھوں نے کہا کہ جن افراد کو یہ سکول چلانے کی اجازت دی ہے اس کا طریقہ کار موجود ہے لیکن جب ان سے طریقہ کار کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ڈی آئی جی ایاز سلیم کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس ایسا سسٹم موجود ہے جس کے تحت ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا جا سکتا ہے جو ایسے سکول چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ سپیشل برانچ سے بھی ایسے سکول چلانے والوں اور ان سکولوں کا وزٹ کرنے والوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔‘

’لیکن پولیس یہ کام اس وقت ہی کرے گا جب متعلقہ محکمہ انھیں ایسا کرنے کے لیے کہے گا کیونکہ پولیس اپنے تئیں کسی کے کوائف کی جانچ پڑتال نہیں کر سکتی۔‘

فیصل آباد کے ہسپتال میں خاتون سکیورٹی گارڈ کا مبینہ ریپ: ’بےعزتی کے ڈر سے خاموش رہی اور ملزم نے اس بات کا فائدہ اٹھایا‘’...
13/03/2025

فیصل آباد کے ہسپتال میں خاتون سکیورٹی گارڈ کا مبینہ ریپ: ’بےعزتی کے ڈر سے خاموش رہی اور ملزم نے اس بات کا فائدہ اٹھایا‘

’گھر کے حالات سے مجبور ہو کر ملازمت کررہی تھی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے ساتھ یہ ظلم ہوگا۔ ان ظالموں نے ویڈیو بنا کر میرے ساتھ بار بار ظلم کیا جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب اور چپ نہیں رہ سکتی۔‘

یہ کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے فیصل آباد شہر کے چلڈرن ہسپتال میں مبینہ طورپر زیادتی کا نشانہ بننے والی متاثرہ خاتون سکیورٹی گارڈ کا جنھوں نے بی بی سی سے بات چیت میں ان الفاظ میں اپنی کیفیت بیان کی۔

متاثرہ خاتون، جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا، کا الزام ہے کہ انھیں ’متعدد بار ریپ کیا گیا‘ جبکہ شکایت کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی گئی۔ دوسری جانب مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم سمیت پانچ ملزمان نے، جو عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر چکے ہیں، نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ہسپتال انتظامیہ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ متاثرہ خاتون کی درخواست پر فیصل آباد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ویمن تھانہ فیصل آباد کی ایس ایچ او گل ناز نے بی بی سی کو بتایا کہ خاتون کے طبی معائنہ کے بعد ان کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

375 اے کے تحت درج مقدمہ کے متن میں متاثرہ خاتون نے کہا ہے کہ انھوں نے ’غربت سے تنگ آ کر تین ماہ قبل چلڈرن ہسپتال فیصل آباد میں سکیورٹی گارڈ کی ملازمت حاصل کی تھی۔‘
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی سپروائزر مجھے آتے جاتے تنگ کرتا تھا، اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میری بات نہ مانی تو میں آپ کو نوکری سے نکلوا دوں گا۔ اس ہی نے میری ڈیوٹی ڈینٹل وارڈ میں لگوا دی۔‘

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’25 دسمبر کو مرکزی ملزم نے مجھے اپنے وارڈ کے کمرے میں بلایا اور وہاں پر میرے ساتھ زبردستی ریپ کیا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔ یہ بات میں نے سکیورٹی سپروائزرکو بتائی تو اس نے کہا کہ خاموشی اختیار کریں ورنہ آپ کو نوکری سے فارغ کردیا جائے گا۔ بےعزتی کے ڈر سے خاموش رہی اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکزی ملزم نے مختلف اوقات میں میرا ریپ کیا۔‘

درج مقدمہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’میں اس صورتحال سے تنگ آچکی تھی۔ جس پر میں نے سکیورٹی سپروائزر کو بتایا تو اس وقت اس کے پاس ایک نامعلوم شخص بھی موجود تھا۔ اس نے کہا کہ دروازے کو کنڈی لگاؤ اور پھر میرے ساتھ زبردستی شروع کر دی گئی۔‘

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’ایک موقع پر اس نے میرا سر پکڑ کر دیوار کے ساتھ مارا اور تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ جس پر میں نے اپنے موبائل سے 15 پر کال کی اور پولیس نے آ کر مجھے نکالا اور پھر میرا خاوند بھی موقع پر پہنچ گیا تھا۔‘

پانچوں ملزمان کی 10 روز کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری
ویمن تھانہ کی ایس ایچ او گل ناز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی درخواست پر طبی معائنہ کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام نمونے حاصل کرکے فارنزنک رپورٹ کے لیے بھجوا دیے گے ہیں جبکہ مقدمے میں نامزد پانچ کے پانچ ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 10 دن کی ضمانت قبل از گرفتاری دی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کے بعد تمام ملزمان سے پولیس کی اعلیٰ تفتیشی ٹیم نے پوچھ گچھ کی ہے۔

پولیس افسر گل ناز نے دعویٰ کیا کہ مقدمے کی تفتیش اعلیٰ سطح پر جاری ہے جس میں ’تمام چیزوں کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اعلیٰ افسران اس واقعے کی تمام تفتیش کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں خاتون کا بیان وہی ہے جو مقدمے میں درج ہے۔

’ملزمان بااثر ہیں، میری کون سنے گا‘
متاثرہ خاتون نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ پولیس کے طلب کرنے پر ہمیشہ پیش ہوئی ہیں تاہم ملزمان ’بااثر لوگ ہیں۔‘

’مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہو رہا ہے۔ جب بھی پولیس مجھے بلاتی ہے میں جاتی ہوں اور پولیس بہت ہمدردی سے میری بات سنتی ہے اور مجھے یہ یقین دلاتی ہے کہ مجھے انصاف ملے گا۔ میں پولیس کی بات پر یقین رکھتی ہوں کیونکہ ہسپتال سے بھی مجھے پولیس ہی نے نکلنے میں مدد کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ کام چھوڑ دیتی ہوں۔ مگر پھر معاشی مجبوریاں سامنے آتی تھیں۔ سوچا کہ شاید کچھ دنوں میں حالات ٹھیک ہو جائیں۔‘

خاتون کا کہنا تھا کہ ’مجھے کئی لوگوں نے کہا کہ میں چپ کر جاتی۔ میں تو چپ رہنا چاہتی تھی مگر وہ مجھ پرتشدد کر رہے تھے اور اسی لیے پولیس کو فون کرنا پڑا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت غریب لوگ ہیں۔ مجھے نہیں پتا کب تک تھانے اور عدالتوں کے چکر لگا سکتی ہوں۔ لیکن مجھے انصاف چاہیے۔‘
’بدنام کرنے کی سازش‘
مقدمہ میں نامزد واقعے کے مرکزی ملزم سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اپنے موقف میں کہا کہ 25 دسمبر کو وہ ہسپتال میں گئے ہی نہیں اور یہ سب کچھ ان کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور ’ممکنہ طور پر ان کے خلاف بڑی سازش ہے۔‘

ملزم نے دعویٰ کیا کہ ’اس خاتون نے کچھ عرصہ پہلے بھی ایک درخواست دی تھی جس میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ مگر اب اچانک کیسے اور کیوں اس خاتون نے ان کا نام شامل کیا یہ بہت بڑا سوال ہے جس کے بارے میں مکمل تفتیش ہونی چاہیے اورمیں نے خود کو تفتیش کے لیے پولیس اور ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا ہے کہ وہ حقائق سامنے لائیں۔‘

ملزم کے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے جب بی بی سی نے پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تردید کی اور کہا اس سے پہلے متاثرہ خاتون نے کوئی درخواست نہیں کی۔

دوسری جانب متاثرہ خاتون نے بھی اس سے قبل کسی بھی درخواست دینے سے متعلق بات کی نفی کی ہے۔

درج مقدمہ میں نامزد سکیورٹی سپروائزر نے بھی خود پر لگائے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جس وقت کا ذکر کیا جا رہا ہے اس وقت وہ بھی ہسپتال میں موجود نہیں تھے۔‘

اس مقدمہ میں نامزد دیگر ملزمان نے بھی خود پر عائد کیے جانے والے تمام الزامات کو مکمل مسترد کیا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کی اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی
اس واقعے کے حوالے سے چلڈرن ہسپتال فیصل آباد کے ڈین ڈاکٹرعبدالرازق نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس واقعے کے حوالے سے پنجاب حکومت نے بھی ہسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور ایک ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھجوا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے کیا رپورٹ دی ہے اور اس موقعے پر اس کو میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹرعبدالرزاق کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد پولیس ہسپتال ڈاکٹروں اور سٹاف کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی تھی جبکہ وہ لوگ ضمانت قبل از گرفتاری کروا رہے تھے اور ضمانت کے بعد پولیس تمام ملزمان سے بیانات لے رہی تھی جس وجہ سے وہ لوگ ابھی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ان لوگوں اور متاثرہ خاتون کو کمیٹی نے طلب کیا گیا ہے۔ ’تحقیقاتی کمیٹی ان سے تفصیلی رپورٹ حاصل کرے گی اور اس کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ جو صرف حکومت کو بھجوائی جائے گی۔ وہ رپورٹ میڈیا یا پولیس کے لیے نہیں ہوگی۔‘

ڈاکٹرعبدالرزاق کا دعویٰ تھا کہ ان کے ہسپتال میں ’خواتین عملے کو ہر طرح کا مناسب تحفظ حاصل ہے اوراگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے تو ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔‘

انصاف کے تقاضے پورے ہونگے: ترجمان پنجاب حکومت

جب پنجاب حکومت کی ترجمان عظمی بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ کہ فیصل آباد ہسپتال واقعے کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حکومت پنجاب نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔

’اس واقعہ کا مقدمہ باقاعدہ درج ہوچکا ہے۔ ہم خاتون سکیورٹی گارڈ کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بدقسمتی ہے کہ خواتین کے ساتھ کام کرنے والی جگہوں اور بالخصوص ہسپتالوں میں اس طرح کا واقعہ ہو۔ پنجاب حکومت کام کرنے والی جگہیں اور بالخصوص جہاں پر خواتین کام کرتی ہیں ان کو محٖفوظ بنانے کے اقدامات کر رہی ہے اور ایسے واقعات کو عدالتوں میں خصوصی طور پر ٹرائل کروانے کے لیے ایک خصوصی یونٹ بھی بنایا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس یونٹ کے تحت ’خواتین، بچوں اور ٹرانس جینڈر کے کیسز کی خصوصی نگرانی کی جائے گی تاکہ عدالتوں میں ان کے کیسز کی خصوصی پیروی ہو اور ملزمان انصاف کے تقاضوں سے بچ نہ سکیں۔‘

عظمی بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ ’معاشرے کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ معاشرے کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ اس نے بھی خواتین کو جگہ دینی ہے اور خواتین کے حقوق کا احترام کرنا ہے۔‘

13/03/2025

جعفر ایکسپریس کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک مسافر کی آنکھوں دیکھی کہانی

سوپ کے پیالے میں پیشاب کرنے کی ویڈیو، ریستوران کا چار ہزار گاہکوں کے لیے معاوضے کا اعلانچین کی سب سے بڑی فوڈ چین ہیڈی لا...
13/03/2025

سوپ کے پیالے میں پیشاب کرنے کی ویڈیو، ریستوران کا چار ہزار گاہکوں کے لیے معاوضے کا اعلان

چین کی سب سے بڑی فوڈ چین ہیڈی لاؤ نے شنگھائی میں اپنے ریستوران میں کھانا کھانے آنے والے چار ہزار سے زائد گاہکوں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کی ہے کیونکہ دو لڑکوں نے ان کے سوپ کے پیالے میں پیشاب کر دیا تھا۔

گذشتہ مہینے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ریستوران کے ایک کمرے میں دو لڑکوں کو سوپ کے ایک پیالے میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ بات واضح نہیں کہ یہ ویڈیو کس نے بنائی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں 17 سالہ لڑکے واقعے کے وقت نشے کی حالت میں تھے اور انھیں گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

ایسے کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ کسی نے یہ سوپ پیا ہو۔

ہیڈی لاؤ نے اس واقعے کے بعد اپنے گاہکوں سے معذرت کی اور کہا کہ اس نے اپنے تمام برتن اور دیگر اشیا تبدیل کر لیے ہیں۔

یہ واقعہ فروری میں ہوا تھا لیکن کمپنی کو واقعے سے متعلق کچھ دن پہلے ہی علم ہوا جب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔

ہیڈی لاؤ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ان کا سٹاف ان لڑکوں کو یہ حرکت کرنے سے روکنے میں ناکام رہا۔ ہیڈی لاؤ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں یہ معلوم کرنے میں بھی تقریباً ایک ہفتہ لگا کہ یہ واقعہ ان کے کس ریستوران میں پیش آیا کیونکہ ان کی شنگھائی شہر میں ایک درجن سے زیادہ برانچز ہیں۔

’ہم مکمل طور پر سمجھتے ہیں کہ اس واقعے سے ہمارے گاہکوں کو ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا اور ہم کسی بھی صورت میں اس کا ازالہ نہیں کر سکتے لیکن ہم اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔‘

کمپنی نے کہا ہے کہ 24 فروری سے 8 مارچ تک ریستوران میں کھانا کھانے والے تمام افراد کو ان کے خرچ کیے گئے پیسوں سے 10 گُنا زیادہ پیسے واپس کیے جائیں گے۔

کمپنی کے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زیادہ ریستوران ہیں۔ ہیڈی لاؤ دنیا بھر میں اپنی اچھی کسٹمر سروس اور دوستانہ ماحول کی وجہ سے جانا جاتا ہے جہاں بچوں اور خواتین کا پھولوں اور مٹھائیوں سے استقبال کیا جاتا ہے۔

13/03/2025

جعفر ایکسپریس سانحہ

جعفر ایکسپریس: یرغمالیوں اور خودکُش حملہ آوروں کی موجودگی میں پیچیدہ فوجی آپریشنز کیسے اور کن بنیادوں پر کیے جاتے ہیں؟__...
13/03/2025

جعفر ایکسپریس: یرغمالیوں اور خودکُش حملہ آوروں کی موجودگی میں پیچیدہ فوجی آپریشنز کیسے اور کن بنیادوں پر کیے جاتے ہیں؟__

منگل کی دوپہر بلوچستان کے علاقے بولان پاس کے قریب ’جعفر ایکسپریس‘ پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے لگ بھگ 36 گھنٹوں بعد پاکستانی فوج کی جانب سے بدھ کو رات گئے یرغمالی مسافروں کو بازیاب کروانے کی غرض سے کیے گئے آپریشن کے مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جب پاکستانی فوج کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کے خاتمے اور ’تمام مغوی مسافروں کی بازیابی‘ کا اعلان کیا گیا تو بہت سے افراد نے اس آپریشن کی تکمیل میں تاخیر سے متعلق سوالات کیے، جبکہ فوج اور حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے اس ضمن میں وضاحتیں بھی دی گئی ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نجی ٹی وی چینل ’دنیا نیوز‘ کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں یرغمالی صورتحال کے باعث بہت احتیاط سے یہ آپریشن کرنا پڑا تاکہ کسی بھی مسافر کو نقصان نہ ہو۔

فوج کے ترجمان نے اس دوران میزبان سے گزارش کر کے ایک ویڈیو بھی چلوائی۔ انھوں نے کہا کہ ’ویڈیو میں دیکھیں تو آپ کو تین مختلف رنگوں کے تین بلاک نظر آئیں گے، یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں ہم آپ کو سکیورٹی ذرائع سے خبر بھی دے رہے تھے کہ انھوں (شدت پسندوں) نے ٹولیوں کے اندر مسافروں کو بٹھا رکھا تھا۔‘

اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس کے درمیان میں اُن کے ساتھ خودکش بمبار بیٹھے ہوئے تھے، یہی وجہ تھی کہ ہم بہت احتیاط سے اور آہستگی سے جا رہے تھے۔‘

فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ’بدھ کو فائنل کلئیرنس آپریشن میں ایس ایس جی کے جوانوں نے خودکش بمباروں کو ہلاک کیا اور ایس ایس جی کے کمانڈوز کی کارروائی کے بعد یرغمال مسافر وہاں سے بھاگے۔‘

اسی طرح پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ آپریشن 36 گھنٹوں پر محیط اس لیے رہا کیونکہ مغویوں کی صورتحال ہو تو اس میں سے بغیر کسی جانی نقصان کے نکلنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ہماری فورسز کی مہارت ہے کہ انھوں نے آپریشن کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہونے دیا۔‘

ان بیانات کے بعد یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر یرغمالیوں کی موجودگی کے باعث آپریشنز میں تاخیر کیوں ہوتی ہے اور کیا ایسی صورتحال میں ایک ریگولر فوجی آپریشن ممکن ہوتا ہے؟

بی بی سی نے اس بارے میں سابق فوجی اہلکاروں سے بات کی جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے، جس میں شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہو، میں ہونے والی فوجی کارروائی مکمل طور پر مختلف طریقے سے کی جاتی ہے۔

پاکستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ فوج کو ایک ایسا آپریشن کرنا پڑے جس میں یرغمالیوں کی زندگی بھی بچانی ہو۔ ایسے آپریشنز میں ریگولر ٹروپس یعنی عام فوجی دستوں کی بجائے افواج کے ایس ایس جی کمانڈوز حصہ لیتے ہیں۔

سابق افسران کے مطابق پاکستان آرمی کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے اینٹی ٹیررسٹ یونٹ کی ’ضرار کمپنی‘ یرغمالیوں کی بازیابی اور انسداد دہشت گردی کے مشن میں مہارت رکھتی ہے اور انھوں نے ہی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی طرف سے ہائی جیک کی گئی اس ٹرین اور اس کے مسافروں کی بازیابی ممکن بنائی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک سابق ایس ایس جی اہلکار نے بتایا کہ ’یرغمالیوں کی بازیابی کے فوجی آپریشنز انتہائی پیچیدہ اور حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہا تھا کہ اِن آپریشنز میں ’جدید انٹیلیجنس، محتاط حکمت عملی اور نہایت مہارت کے ساتھ فوجی کارروائی‘ شامل ہوتی ہے۔

اُن کے مطابق ’جب یرغمال بنانے کی کوئی کارروائی سامنے آتی ہے تو سب سے پہلے انٹیلیجنس ادارے جیسے کہ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی علاقے کا مکمل تجزیہ کرتے ہیں۔ پہلے یہ مشکل کام تھا اور مخبروں کی مدد سے کیا جاتا تھا، مگر اب ڈرون، سیٹلائٹ مانیٹرنگ نے بہت آسانی پیدا کر دی ہے۔‘

اُن کے مطابق اِن ذرائع سے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ علاقے کی نوعیت کیا ہے، دہشت گردوں کے پاس کتنے ہتھیار ہیں، وہ کہاں کہاں موجود ہیں اور یرغمالیوں کی صورتحال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض پیچیدہ صورتوں میں اگر ممکن ہو تو مذاکرات کی کوشش بھی کی جاتی ہے تاکہ یرغمالیوں کو بغیر فوجی کارروائی کے بازیاب کروایا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں یا یرغمالیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو تو پھر فوج ایک براہ راست آپریشن کی تیاری کرتی ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اِن سابق فوجی افسر، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی ’ضرار کمپنی ان آپریشنز کی تیاری انتہائی مہارت کے ساتھ کرتی ہے۔ ہماری تمام پلاننگ کی بنیاد زیرو کیژویلٹی ہے یعنی کوئی ایک بندہ بھی ہلاک نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا ہمارا احتساب کا نظام بھی ہے اور ایک بھی یرغمالی کی جان چلی گئی تو طویل انکوائری بھگتنا پڑتی ہے اور اس منصوبہ بندی میں شامل تمام افراد جوابدہ ہوتے ہیں۔‘

لیکن ان افسران کے مطابق ایسے آپریشنز میں سکیورٹی فورسز کے لیے سب سے بڑا چیلنج اُس وقت پیش آتا ہے جب دہشت گردوں کی جانب سے ’یرغمالیوں کو انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

یاد رہے کہ سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے میں بھی شدت پسند یرغمالیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے تھے۔

سابق فوجی اہلکار کے مطابق ’اس لیے آپریشن میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ فورسز کو انتہائی محتاط طریقے سے کارروائی کرنا پڑتی ہے تاکہ یرغمالیوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔‘

’بعض اوقات دہشت گرد یرغمالیوں کو دھمکی کے طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ فورسز کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض معاملات میں حملے کے مقام پر خودکش بمبار موجود ہوتے ہیں یا بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بم ڈسپوزل سکواڈ بھی آپریشن کے ساتھ ساتھ اس ایریا کو کلیئر کرتا ہے۔‘

سابق فوجی اہلکاروں سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے فوجی آپریشنز میں سب سے پہلے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لیا جاتا ہے اور سنائپرز (ماہر نشانے بازوں) کو تعینات کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی خطرناک موومنٹ کو روکا جا سکے۔

ان کے مطابق اس کے بعد ضرار کمپنی کے اہلکار مخصوص مقامات سے اندر داخل ہونے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو فرار ہونے یا یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ ملے۔ انھوں نے بتایا کہ حملے کے دوران فورسز بعض اوقات فلیش بینگز، سموک گرینیڈز اور صوتی دھماکوں کا استعمال بھی کرتی ہیں تاکہ دہشت گردوں کو الجھایا جا سکے اور یرغمالیوں کی محفوظ بازیابی ممکن ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر خودکش بمباروں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ وہ کوئی بڑا نقصان نہ پہنچا سکیں، جبکہ دیگر دہشت گردوں کو مارنے یا گرفتار کرنے کے بعد یرغمالیوں کو بحفاظت نکالا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے مطابق جعفر ایکسپریس کے بازیابی کے آپریشن میں ایس ایس جی کے کمانڈوز، ایف سی اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت پاکستانی فضائیہ نے بھی حصہ لیا جبکہ ’آپریشن کے آغاز میں سب سے پہلے خودکش حملہ آوروں کو مارا گیا۔‘

پاکستان میں ماضی میں کئی یرغمالیوں کی بازیابی کے بڑے آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔

اِن میں سنہ 2009 میں جی ایچ کیو حملہ، سنہ 2014 میں آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پشاور پر شدت پسندوں کا حملہ اور سنہ 2016 میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایسا بھی ہوا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں نے اہلکاروں کو یرغمال بنایا جن کی بازیابی کے لیے آپریشن کرنا پڑا۔

دس اکتوبر 2009 کی صبح دس مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے راولپنڈی میں واقع ہیڈ کوارٹر یعنی جی ایچ کیو پر دستی بموں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ خود کش جیکٹس پہنے یہ مسلح افراد جی ایچ کیو کے بیرونی گیٹ پر تعینات محافظوں کو ہلاک کر کے جی ایچ کیو میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جہاں انھوں نے جی ایچ کیو کے بیسیوں ملازمین کو کئی گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔

حملہ آوروں کے خلاف فوجی کمانڈوز کی کارروائی کے دوران دس میں سے نو حملہ آور ہلاک ہوئے تھے اور عقیل عرف ڈاکٹر عثمان نامی شدت پسند کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس حملے میں گیارہ فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اس آپریشن میں بھی ضرار کمپنی نے 22 گھنٹے کی طویل کارروائی کی تھی اور تمام یرغمالیوں کو بازیاب کروانے کا اعلان کیا تھا۔

اسی طرح اے پی ایس حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں نے سکول پر حملہ کر کے طلبا اور اساتذہ کو یرغمال بنایا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ اس آپریشن میں بھی طلبا یرغمال تھے جنہیں بازیاب کرائے جانے کے دوران تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تاہم اس دوران کافی جانی نقصان ہوا۔

سنہ 2016 میں خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے چار شدت پسندوں کو دو گھنٹے کی کارروائی کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق فوجی افسر نے کہا کہ پاکستان میں یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشنز کو مسلسل نئے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ’شدت پسندوں کی جانب سے جدید طریقوں کا استعمال، خودکش بمباروں کا بڑھتا ہوا خطرہ اور سرحد پار سے ہونے والی کارروائیاں شامل ہیں۔‘

اُن کے مطابق بعض گروہ یرغمالیوں کو سودے بازی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی یا تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں میں ہونے والے حملے بھی فورسز کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دیتے ہیں کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں عام شہری موجود ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی سپیشل فورسز کی ضرار کمپنی اور ایس ایس جی کے اہلکار جدید ترین ہتھیاروں، انٹیلیجنس ٹیکنالوجی اور جنگی مہارت رکھتے ہیں، جس کے باعث یرغمالیوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور اس بار بلوچستان میں ہونے والا یہ آپریشن جو بظاہر خاصا پیچیدہ تھا، کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔‘

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PK Daily Scoop posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category