25/10/2026
12 سے 15 گھنٹے کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری
کےالیکٹک کے دعوے ایک طرف اور کراچی کے شہریوں کی تکالیف دوسری طرف! شہرِ قائد کے مختلف علاقوں میں ایک طرف 12 سے 15 گھنٹے کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے تو دوسری جانب مرمت اور فنی خرابیوں کے نام پر 8 سے 15 گھنٹے طویل شٹ ڈاؤن نے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق، کے الیکٹرک نے نیٹ ورک کا سہ ماہی جائزہ مکمل کر کے کورنگی، عزیزآباد، سرجانی اور سائٹ کے بعض فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ (Loadshedding-Free) قرار دینے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن گراؤنڈ ریلیٹی اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مستثنیٰ قرار دیے گئے 150 سے زائد فیڈرز پر بھی گھنٹوں بجلی غائب ہے! نارتھ کراچی، لانڈھی، ڈی ایچ اے، کلفٹن، پی ای سی ایچ ایس، گلشن اقبال، گلستانِ جوہر اور نارتھ ناظم آباد سمیت پورا شہر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ لیاری کی صورتحال سب سے ابتر ہے جہاں 24 گھنٹوں میں صرف 2 گھنٹے بجلی دی جا رہی ہے، جس پر پبلک ایڈ کمیٹی لیاری کے رہنما محمد طفیل خان نے شدید احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کے الیکٹرک نے رویہ نہ بدلا تو شہر گیر احتجاج کیا جائے گا۔
ایک طرف کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ بلوں کی ادائیگی سے علاقے لوڈشیڈنگ فری ہو رہے ہیں اور دوسری طرف بل ادا کرنے والے شہری بھی 15 گھنٹے کی اذیت بھگت رہے ہیں؛ اس کھلے تضاد کا ذمہ دار کون ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں! مزید تفصیلات کے لیے سائلنٹ نیوز کا یہ گرافک کارڈ دیکھیں۔ 👇