23/10/2026
📢 حکومتِ پاکستان اور اسلام آباد انتظامیہ سے عوامی اپیل!
🛑 شاپنگ بیگ کے نام پر عوام سے اضافی رقم وصول کرنا بند کیا جائے!
اسلام آباد کے مختلف برانڈڈ اسٹورز، سپر مارکیٹس اور گروسری اسٹورز پر ایک عام صارف کو اس وقت عجیب صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ ہزاروں روپے کی شاپنگ کرنے کے بعد کاؤنٹر پر پہنچتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے:
"شاپنگ بیگ کے پیسے الگ ہیں، بیگ لینا ہے یا سامان ہاتھ میں لے کر جانا ہے؟"
کیا ہزاروں روپے کی خریداری کرنے والے کسٹمر کو اس طرح پریشان کرنا مناسب ہے؟
عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے کا نوٹس لیں اور واضح کریں کہ شاپنگ بیگ کی قیمت وصول کرنے کے لیے کیا قواعد و ضوابط ہیں، اور آیا تمام اسٹورز ان پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔
⚖️ ہمارے مطالبات:
✅ اسلام آباد انتظامیہ اور متعلقہ حکام اس معاملے کی تحقیقات کریں۔
✅ اسٹورز میں شاپنگ بیگ کے چارجز کے حوالے سے واضح پالیسی نافذ کی جائے۔
✅ اگر کوئی اسٹور مقررہ قوانین یا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
✅ خریداری کے دوران صارفین کو عزت، سہولت اور شفاف طریقۂ کار فراہم کیا جائے۔
ہم شاپنگ بیگ کے ماحولیاتی متبادل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کے قواعد واضح اور یکساں ہونے چاہییں۔
📣 حکومتِ پاکستان، اسلام آباد انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ کنزیومر پروٹیکشن اداروں سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر توجہ دیں اور عوام کو واضح رہنمائی فراہم کریں۔
عوام کی آواز سنی جائے، صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے!
✊ عوامی مفاد کے لیے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔