GB,s Rights

GB,s Rights .


....

04/05/2026

Gilgit city is facing a growing traffic crisis due to rapid population increase, rising number of vehicles, and limited road infrastructure. Narrow roads, illegal parking, further worsen congestion, especially during peak hours. The lack of an efficient traffic management system and public transport adds to the problem. As a result, people experience daily delays, ,,

30/03/2026

گلگت شہر اور بارش سبحان الله

30/03/2026
02/02/2026
Khalter lake yaseen darkut💕💕
16/07/2025

Khalter lake yaseen darkut💕💕

03/07/2025

Cardio pulmonary resuscitation.....

01/07/2025

پانی کی قلت گا اشو اور ھمارا کردار:
پانی کی قلت صرف ایک علاقے کا مسلہ نہں ھے۔ بلکہ یہ پوری دنیا کا مسلہ ھے ۔ آئے روز ابادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ جب مسلہ درپیش ھوتا ھے تو گاؤں کے چند لوگ مل کے ذمہ دار افسروں، گوارنیمٹ کے عملہ کو گالیاں سناتے ھیں یا علاقے کے نمائندوں پر اپنا بڈاس نکالنے کی کوشش کرتے ھیں۔ ایک حد تک تو یہ ٹھیک ھے۔ غلط نہں کہا جاسکتا ھے ۔ کیونکہ فوری طور پر یہی کیا جا سکتا ھے۔ اور فوری حل کے ذمہ دار بھی یہ لوگ ھی ھے ۔ لیکن
کیا کبھی ھم نے سوچا ھے۔ ھم عام عوام اس میں کیا کیردار ادا کر سکتے ھیں؟ ھمارا بھی کوئی زمہ داری بںتا ھے یا نہں؟ ایک سادہ سی مثال ھے۔
آج سے پندرہ بیس سال پہلے اکثر جگہوں میں لوگ کے لئیے نلکے کا پانی دستیاب نہں تھا۔ وہ ندی نالو کویل اور چشموں کے پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ وہ کویل ندی نالے آج بھی اسی جگہ موجود ھے اور پانی بھی رواں ھے اور وہ پانی پینا تو درکنار ھاتھ لگانے کے بھی قابل نہں رھا ھے۔
کیوں ایسا ھوا؟ اور کس نے اس کو غلیظ کرکے چھوڑا؟ یہ سوال ھمیں اپنے آپ سے کرنا ھے۔
معزرت کے ساتھ ھم نے خود اپنے ھاتھوں سے، جان بوجھ کر، سمجھتے ھوئے۔ اس صاف شفاف پانی کو گندہ کرکے رکھ دیا ھے اور آج ھم پینے کے لیئے پانی کے قطرے قطرے کو ترس رھے ھیں۔ کیونکہ ھم نے اللہ تعالیٰ کے اس انمول تحفے کا ناشکری کیا۔ اس سے بڑی نا شکری کی سزا کیا ھو سکتی ھے کہ ھم
دریا کے اوپر بیٹھ کر دریا کے پانی کی لطف تو محسوس کرسکتے ھیں لیکن اس پانی کو پی نہں سکتے اور گالیاں دوسروں کو دیتے ھیں۔ حلانکہ اس گالی کا حقدار ھم خود ھے۔
اگر یہ صورت حال جاری رھا تو حالات اور بھی گھمبر ھونگے۔ آج سے کہی سالوں بعد کیا ھوگا؟ ھمارے بچے پوتے کیا کریں گے ۔
یہ حقیقت ھمیں مانا ھوگا کہ پانی کے اس کمی میں ھم سب برابر کے شریک ھیں۔ بلکہ میں یہ کہونگا کہ ھم ھی مجرم ھیں۔ ذرا غور کریں
ھمارے واش روم کے نکاسی، برتنوں کے نکاسی، کپڑوں کے نکاسی، کیتھوں اور باغات کے نکاسی حتیٰ کہ گٹر کے پانی کو بھی بڑے مزے سے دریاؤں ، ندی نالوں اور کویل میں شامل کرتے ھیں۔ مرے ھوئے جانوروں، کوڑا کرکٹ، بچوں کے پمپرز، کٹے ھوئے بال اور پرانے کپڑے۔ کیا کچھ کو ھم اس میں نیں پھنکتے ھیں۔ ایسا لگتا ھے ایسا کرکے ھم کسی سے بدلہ لے رھے ھو۔ جس کی وجہ سے قدرت کا ایک انمول تحفہ جو قابل استعمال تھا اب ناقابل استعمال ھوچکا ھے۔
یہ ھمارے اویرنس کی کمی ھے، اخلاقی پستی اور قدرتی ماحول کے ساتھ دشمنی کا مترادف ھے۔ اور اس کے باوجود بھی ھم ٹس سے مس نہں ھیں۔
مجھے یہ سن کر بڑا تعجب ھوا کہ فرانس ایک بڑا شہر ھے وھاں لاکھوں نہں کروڑوں کی ابادی ھے۔ اور انہوں نے اپنے ملک میں ایسا سسٹم ڈیویلپ کیا ھوا ھے۔ کہ کوئی بھی شخص معمولی سی چیز کو بھی دریا، ندی نالوں یا نہروں میں نہں پھنک سکتا ھے۔ جو قانونی جرم ھے۔ اور شہری اس قانون پر سختی سے عمل کر رھے ھوتے ھیں۔ اسلیئے شہر صاف ستھرا, پانی صاف ستھرا، تازہ ھوا اور گندگی کا تصور ھی نہں ھے۔ جبکہ یہ تمام صفات ھمارے اندر ھونا چاھیے۔ کیونکہ صفائی نصف ایمان کا درس آسلام نے ھمیں دیا ھے۔ کیا وہ عملی طور پر ھمیں نظر آتا ھے؟ اگر نہں اتا ھے تو اس مقدس درس کا کیا فائدہ۔
اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے۔ کیا ھم اس حد تک زمہ دار ھو سکتے ھیں کہ اپنے ماحول کو دربارہ اس قابل بنا سکے جو پہلے تھا۔ جو قدرت نے ھمیں بناکر دیا تھا۔
یہ کام مشکل ضرور ھے لیکن ناممکن نہں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ھمیں اشرافالمخلاقات بناکر بہترین عقل سے نوازا ھے۔ ھم اپنے عقل کو استعمال کرکے بہت کچھ کرسکتے ھیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ھوئے نعمتوں کا تحفظ ھمارا زمہ داری بھی ھیں۔ اور اس کو اپنے اصل حالت میں نئے نسل تک پہنچانا ھمارا فرض بھی ھیں۔
بڑے بڑے شہروں میں اگر چہ یہ کام ناممکن نظر آتا ھے۔ لیکن قصبہ اور دیہات جہاں ابادی کم ھے ندی نالے ھم سے گزر کر شیروں میں جاتے ھیں۔ یہاں تو ممکن۔ لیکن افسوس اس بات کی ھے کہ ھم نے کبھی اس بیش بہاہ خزانے کی تحفظ کا کھبی کوشش بھی نہں کیا ھے۔ اپنے گھر کے غلاظت کو لے جاکے ندی نالے میں ڈالتے ھیں۔ مردہ جانوروں کو بہتے ھوئے دیکھتے ھیں۔ بچوں کے پمپر شاہر میں ڈال کے پل کے اوپر سے نیچے پھنکتے ھیں۔ ایسا کرتے ھوئے ھمارا ضمیر بھی ھمیں ملامت نہں کرتا ھیں۔ اور پانی کو بڑے آرام سے گندہ کرتے ھیں۔ اور پینے کے صاف پانی کے لئے گالیاں دوسروں کو دیتے ھیں۔ اگر ھمارے اندر تھوڑا سا بھی احساس ھے۔ باضمیر اور زمہ دار شہری ھو نے کا تھوڑا سا بھی جذبہ ھے۔ تو
ھمیں چاہیئے ھر سطح پر سکولوں، کالجوں، عبادت گاھوں، گوارنیمٹ کے اداروں اور دیہی تنظیموں میں میں باقاعدہ مہم چلایا جائے۔ قدرتی ماحول کی تحفظ کا تہیہ کر لیں ۔تاکہ ھر شخص ایک زمہ دار شہری بنے، اپنے اپنے حصے کی شیر ڈالے اور قانون نافذ کرنے والوں کو متحرک کیا جائے تاکہ وہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کو یقنی بنائے جو خلاف ورزی کریں۔
مجھے یقین ھے اگر ھم میں سے ھر ایک چھوٹے بڑے، مرد عورت زمہ داری کا مظاھرہ کریں گے تو ھم اس اشو پر کنٹرول کرسکتے ھیں۔ شرط یہ ھے کہ ھم سب دل و جان سے ذھنی طور پر تیار ھو اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ایک اچھے شہری کے کتنے اصولوں پر میں میرے اولاد اور میرے گھر والے عمل پیرا ھے۔ اگر ایسا نہں ھے تو کسی اور پر انگلی اٹھانے کا مجھے کوئی حق حاصل نہں ھے۔ ھم سب ایک ھی کھیت کے مولی ھیں۔ ماحول کو خراب کرنے میں کوئی کسی سے کم نہں۔
اور یہ ھم سب کے مفاد میں ھے۔ کہ ھم اب و ھوا، اور پانی کو قدرتی حالات میں رھنے دیں۔ جو سب کو راحت پنچائے اور سب کے استعمال کے قابل ھو۔
یہ ایک بڑی نیکی بھی ھے۔ اللہ تعالیٰ کے نعمتوں کا شکرانہ بھی اور قدرتی ماحول کا تحفظ بھی۔
میں اس مختصر تحریر کے ذریعے تمام حکومتی ادروں، سماجی خدمت گاروں، درسگاہوں، تنظیموں، علمائے کرام اور کونسلات سے گزارش کرونگا کہ وہ اس اھم اشو کو لے کر عام لوگوں میں شعور بیدار کریں۔ اپنے بساط کے مطابق کردار ادا کریں اور ماحول دوستی میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ قدرت کے عطا کردہ تعمتوں کو استعمال کرنے کا حق سب کا ھیں۔ اور ان کی تحفظ کا زمہ دار بھی ھم ھی ھے۔ شکریہ...... Copy

25/06/2025

یہ واقعہ نہایت اہم اور سبق آموز ہے جو ہمیں اجتماعی شعور، برداشت، اور حقیقت پسندی کا پیغام دیتا ہے۔ مرحوم یاور عباس، جو اپنی جرات مندانہ رائے، فکری آزادی، اور اداروں پر تنقید کے لیے جانے جاتے تھے، ایک بیباک سوچ کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ ان کی تنقید ریاستی اداروں پر شدید اور اکثر جذباتی انداز میں کی جاتی تھی۔ لیکن زندگی کی آخری منزل میں، جب ان کی میت ایک خطرناک اور ناقابلِ رسائی پہاڑی علاقے میں پھنس گئی، تب وہی ادارے جن پر وہ تنقید کرتے رہے، ان کے لیے مددگار بن کر سامنے آئے۔

پاک فوج نے انتہائی مشکل، جان لیوا ہیلی ریسکیو ، اور لاکھوں روپے کے خرچ کے باوجود میت کو ریسکیو کیا اور ورثا تک پہنچایا۔ یہ وہ عملی اقدام تھا جس نے ثابت کیا کہ دوستی اور خدمت وہی اہم ہے جو مشکل وقت میں آزمائی جائے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک گہرا سبق سکھاتا ہے: ادارے انسانوں سے بنتے ہیں، اور انسانوں سے ہی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ تنقید کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر تنقید ایسی ہو جو اصلاح کا دروازہ کھولے، نہ کہ نفرت اور انکار کا۔ ہمیں کبھی بھی اس حد کو نہیں پار کرنا چاہیے جہاں ہماری رائے دشمن کے بیانیے سے جا ملے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جو لوگ پردہ نشین ہوکر خفیہ ارادوں کے ساتھ قوم کو بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ آزمائش کے وقت غیر حاضر ہوتے ہیں۔ جبکہ محافظ وہی ہوتے ہیں جو ہر حال میں مدد کے لیے سامنے آتے ہیں، چاہے ان پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ کی گئی ہو۔

لہٰذا آئندہ کے لیے ایک سادہ مگر مضبوط اصول یاد رکھیں: آزادیِ رائے ضرور استعمال کریں، مگر شعور، سلیقے اور دائرہ اختیار کے اندر۔ اختلاف برائے اصلاح ہو، نہ کہ تخریب۔ ہمیں فخر ہے اُن اداروں پر جو عملی خدمت سے اپنی اہلیت ثابت کرتے ہیں، اور ہمیں سیکھنا ہے کہ تنقید کے ساتھ ساتھ سچ کی پہچان اور وقت کی اہمیت کو بھی سمجھا جائے۔

محمد صالح

فیڈرل پبلک سروس کمیشن اساتذہ بھرتی انٹرویو شیڈول
24/06/2025

فیڈرل پبلک سروس کمیشن اساتذہ بھرتی انٹرویو شیڈول

24/06/2025

بڑی خبر ۔
گندم فی نفر کوٹہ 8 کلو گرام مقرر کردیا گیا ۔

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GB,s Rights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category